Main Icon

باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2938

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا فَإِنَّهٗ يُطَوَّقُهٗ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن سعيد بن زيدقال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبرا من الأرض ظلما فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعید ابن زید سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ جو بالشت بھر زمین ظلمًا لے لے تو قیامت کے دن اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا ۲؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ عشرہ مبشرہ سے ہیں حضرت عمر فاروق کی بہن فاطمہ آپ ہی کے نکاح میں تھیں،آپ ہی کے ذریعہ حضرت عمر ایمان لائے،سواء بدر تمام غزوات میں شامل رہے،بدر کے دن آپ حضرت طلحہ کے ساتھ کفار قریش کی تلاش میں گئے تھے، حضور انور نے آپ کو حصہ غنیمت کے مال سے دیا ، ستر۷۰سال سے زیادہ عمر ہوئی، ۵۱ھ؁∞ میں مقام عقیق میں انتقال ہوا،آپ کی نعش مدینہ پاک لائی گئی،بقیع میں دفن ہوئے۔
۲
؎اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زمین کے سات طبقے اوپر نیچے ہیں صرف سات ملک نہیں پہلے تو اس غاصب کو زمین کے سات طبق کا طوق پہنایا جائے گا،پھر اسے زمین میں دھنسایا جائے گا لہذاجن احادیث میں ہے کہ اسے زمین میں دھنسایا جائے گا وہ احادیث اس حدیث کے خلاف نہیں،یہ حدیث بالکل ظاہر پر ہے کہ کسی تاویل کی ضرورت نہیں،اللّٰهتعالٰی اس غاصب کی گردن اتنی لمبی کردے گا کہ اتنی بڑی ہنسلی اس میں آجائے گی۔معلوم ہوا کہ زمین کا غصب دوسرے غصب سے سخت تر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2938