Main Icon

باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2941

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ يَزِيدَعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهٗ نَهٰى عَنِ النُّهْبَةِ وَالْمُثْلَةِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن عبد الله بن يزيدعن النبي صلى الله عليه وسلم: أنه نهى عن النهبة والمثلة. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے عبداللّٰهابن یزید سے ۱؎وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ حضور انور نے لوٹ مار کرنے اور ناک کان کاٹنے سے منع فرمایا ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ خَطَمی انصاری ہیں،صلح حدیبیہ میں آپ ۱۷ سال کے تھے،بیعت الرضوان میں شریک تھے،حضرت عبداللّٰهابن زبیر کے زمانہ میں انہی کی طرف سے کوفہ کے گورنر تھے اور انہی کے زمانہ میں وفات پائی،آپ سے آپ کے بیٹے موسیٰ اور آپ کے پوتے ابوبردہ ابن ابی موسیٰ وغیرہم نے روایات لیں،امام شعبی آپ کے کاتب رہے۔
۲
؎یعنی نہ تو کسی مسلمان کا مال لوٹنا جائز ہے اور نہ کسی انسان یا حیوان کے ناک کان زندگی میں یا بعد موت کاٹناجائز۔ اس سے معلوم ہوا کہ کٹی ہوئی پتنگ یا اس کی ڈور لوٹنا حرام ہے کہ یہ بھینُھبہہے۔خیال رہے کہ لٹائی ہوئی چیز کا لوٹ لینا جائز ہے جیسے نکاح کے چھوہارے اور دُلہا دُلہن پر بکھیر کے پیسے کہ اسے عربی میںنثرکہتے ہیں نہ کہنُھبہ،یوں ہی علاجًا و قصاصًا ناک کان کاٹنا جائز کہ وہ مثلہ نہیں بلکہ علاج یا قصاص ہے لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَیۡنَ بِالعَیۡنِ"الخ۔اہل عرب جنگوں میں مقتولین کے ناک کان کاٹ ڈالتے تھے اور ایک دو مہمانوں کی آمد پر زندہ بکری کا ہاتھ یا پیر کاٹ کر پکالیتے تھے یہاں اس سے منع فرمایا گیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2941