Main Icon

باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2958

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهٖ خُسِفَ بِهٖ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلٰى سَبعِ أَرَضِينَ » . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

عن سالم عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ من الأرض شيئا بغير حقه خسف به يوم القيامة إلى سبع أرضين » . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سالم سے وہ اپنے باپ سے راوی ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جو زمین کا کچھ حصہ ناحق لے لے اسے قیامت کے دن سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ان کے والد سیدنا عبداللّٰهابن عمر ہیں،آپ فاروق اعظم کے پوتے ہیں،تابعی ہیں فقہاء مدینہ سے ہیں، ۱۰۶ھ؁∞ میں مدینہ پاک میں انتقال ہوا،آپ کی کنیت ابو عمرو قرشی ہے۔
۲
؎یہ عذاب تو قیامت کے دن ہوگا بعد میں دوزخ کا عذاب اس کے علاوہ ہے کیونکہ حقوق العباد میں بڑا فرق ہے کہ اور چیزیں فانی ہیں، زمین پشت ہا پشت تک باقی رہتی ہے،اس کی سزا بھی زیادہ۔لمعات میں فرمایا گیا کہ بعض غاصبین زمین کو دھنسانے کی سزا دی جائے گی اور بعض کے گلے میں طوق بناکر ڈالی جائے گی لہذا یہ حدیث طوق والی حدیث کے خلاف نہیں۔(لمعات)اور ہوسکتا ہے کہ ایک ہی غاصب کو دو وقت میں یہ دو عذاب ہوں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2958