Main Icon

باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2944

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ قَالَ: «مَنْ أَحْيٰی أَرْضًا مَيْتَةً فَهِيَ لَهٗ وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

عن سعيد بن زيد عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «من أحيی أرضا ميتة فهي له وليس لعرق ظالم حق» . رواه أحمد والترمذي وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعید ابن زید سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے کہ حضور نے فرمایا جو بنجر زمین کو آباد کرے ۱؎وہ اس کی ہے ۲؎کسی ظالم رگ کا اس میں کوئی حق نہیں ۳؎(احمد،ترمذیابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎زمین میت وہ زمین ہے جو نہ تو کسی کی ملکیت ہو نہ اس سے بستی کے فوائد وابستہ ہوں لہذا بستی کے قریب کی چراگاہیں،گھوڑ دوڑ کے میدان،فوجی چھاؤنیوں کی زمینیں ارض میت نہیں۔اسے آباد کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اسے قابلِ کاشت بنائے ہموار کرے،اس میں رہے باغ وغیرہ لگائے۔
۲
؎یعنی ایسی زمین کو آباد کرنے والا اس کا مالک ہوجائے گا۔صاحبین اور امام شافعی اس حدیث کو مطلق رکھتے ہیں حاکم کی اجازت کی قید نہیں لگاتے مگر امام اعظم سلطان کی اجازت ضروری فرماتے ہیں یعنی اگر حکومت کی اجازت سے آباد ہوئی ہے تو آباد کار اس کا مالک ہے ورنہ نہیں،ان حضرات کے ہاں یہ فرمان عالی مذہبی قانون ہے،امام اعظم کے ہاں سیاسی حکم تھا یعنی حضور انور سلطان تھے آپ نے لوگوں کو اجازت دی تھی کہ بنجر زمینیں آباد کرو تم مالک ہو،اگر اب بھی بادشاہ یہ اعلان کردے تو حکم نافذ ہوگا۔آج کل بعض نواب راجے اپنی ریاستیں آباد کرنے کے لیے مربے دیتے ہیں لوگ آباد کرلیتے ہیں وہ حکم اسی حدیث سے حاصل ہے،دوسری روایت میں ہےللمرأ الّا مَاطَابَتْ بہٖ نفس بہانسان اس زمین کا مالک ہے جس پر سلطان راضی ہو وہ حدیث اس حدیث کی شرح ہے۔(مرقات)
۳
؎یعنی اگر اس زمین میں کوئی شخص کھیت بوئے یا باغ لگائے تو آباد کرنے والا شخص اس کھیت یا باغ کو اکھڑوا سکتا ہے اپنی زمین خالی کراسکتا ہے،عرق تنوین سے ہے یعنی رگ،مراد خود رگ والا یعنی انسان ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2944