Main Icon

باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2957

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ قَالَ: كُنْتُ غُلَامًا أَرْمِي نَخْلَ الْأَنْصَارِ فَأُتِيَ بِيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا غُلَامُ لِمَ تَرْمِي النَّخْلَ؟» قُلْتُ: آكُلُ قَالَ: «فَلَا تَرْمِ وَكُلْ مِمَّا سَقَطَ فِي أَسْفَلِهَا» ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهٗ فَقَالَ: «اَللّٰهُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَهٗ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ فِي «بَابِ اللّقطَة» إِن شَاءَ اللهُ تَعَالٰى

وعن رافع بن عمرو الغفاري قال: كنت غلاما أرمي نخل الأنصار فأتي بي النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «يا غلام لم ترمي النخل؟» قلت: آكل قال: «فلا ترم وكل مما سقط في أسفلها» ثم مسح رأسه فقال: «اللهم أشبع بطنه».رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه وسنذكر حديث عمرو بن شعيب في «باب اللقطة» إن شاء الله تعالى

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت رافع ابن عمرو غفاری سے فرماتے ہیں میں لڑکا تھا انصار کے درخت کھجور پر پتھر ماررہا تھا ۱؎کہ مجھے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم پر پیش کیا گیا فرمایا اے لڑکے درخت پر پتھر کیوں مارتا ہے میں نے عرض کیا کھاؤں گا۲؎فرمایا تو پتھر نہ مار اور جو نیچے گرے ان میں سے کھالے۳؎پھر ان کے سر پر ہاتھ پھیرا فرمایا خدایا اس کا پیٹ بھردے ۴؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)اور ہم حضرت عمرو ابن شعیب کی حدیثان شاءاللّٰهباباللقطۃمیں بیان کریں گے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی پتھرکے ذریعہ کھجور کے پھل جھاڑکر کھارہا تھا کہ مجھے باغ والے نے پکڑ لیا۔
۲
؎یعنی سخت بھوکا ہوں،مجبورًا جھاڑکر کھارہا ہوں،جان بچانا مقصود ہے نہ کہ چوری کرنا یا گھر لے جانا۔
۳
؎یعنی درخت جھاڑنا ضرورت سے زائد ہے،گرے پھلوں سے بھی پیٹ بھرسکتا ہے،یہ اجازت بھی اس بنا پر دی گئی کہ میں بھوکا تھا جیسا کہ اگلے مضمون سے معلوم ہورہا ہے،ورنہ مالک کی اجازت کے بغیر گرے پھل بھی نہیں کھاسکتے۔فقیر نے عراق میں دیکھا کہ گرے پھل کھانے کی مالک کی طرف سے عام اجازت ہوتی ہے جیسے ہمارے ہاں کھیت کٹنے پر گری ہوئی بالیاں کھیت والے نہیں اٹھاتے ان کے سامنے ہی فقراءومساکین چن لیتے ہیں۔
۴
؎غالبًا یہ آخری جملہ کسی اور راوی کا کلام ہے ورنہ رافع ابن عمرو فرماتے ہیں کہ میرے سر پر ہاتھ پھیرا۔اس جملے سے معلوم ہورہا ہے کہ یہ بھوکے تھے اور مجبوری کی حالت میں کھجوریں کھارہے تھے اگرچہ ایسی حالت میں درخت سے توڑنے کی بھی اجازت ہے مگر جب کہ نیچے گرے ہوئے پھلوں سے حاجت پوری ہوسکتی ہے تو توڑنے کی کیا ضرورت لہذا حدیث واضح ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2957