Main Icon

باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2940

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهٖ فَأَرْسَلَتْ إِحْدٰى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ بِصَحْفَةٍ فِيهَا طَعَامٌ فَضَرَبَتِ الَّتِي النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهَا يَدَ الْخَادِمِ فَسَقَطَتِ الصَّحْفَةُ فَانْفَلَقَتْ فَجَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِلَقَ الصَّحْفَةِ ثُمَّ جَعَلَ يَجْمَعُ فِيهَا الطَّعَامَ الَّذِي كَانَ فِي الصَّحْفَةِ وَيَقُولُ: «غَارَتْ أُمُّكُمْ» ثُمَّ حَبَسَ الْخَادِمَ حَتّٰى أُتِيَ بِصَحْفَةٍ مِنْ عِنْدِ الَّتِي هُوَ فِي بَيْتُهَا فَدَفَعَ الصَّحْفَةَ الصَّحِيحَةَ إِلٰى الَّتِي كُسِرَتْ صَحْفَتُهَا وَأَمْسَكَ الْمَكْسُورَةَ فِي بَيْتِ الَّتِي كَسَرَتْ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن أنس قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم عند بعض نسائه فأرسلت إحدى أمهات المؤمنين بصحفة فيها طعام فضربت التي النبي صلى الله عليه وسلم في بيتها يد الخادم فسقطت الصحفة فانفلقت فجمع النبي صلى الله عليه وسلم فلق الصحفة ثم جعل يجمع فيها الطعام الذي كان في الصحفة ويقول: «غارت أمكم» ثم حبس الخادم حتى أتي بصحفة من عند التي هو في بيتها فدفع الصحفة الصحيحة إلى التي كسرت صحفتها وأمسك المكسورة في بيت التي كسرت. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم اپنی بعض بیویوں کے پاس تھے کہ امہات المؤمنین میں سے کسی نے ایک پیالہ بھیجا ۱؎جس میں کچھ کھانا تھا تو جس کے گھر میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم تشریف فرما تھے انہوں نے خادم کے ہاتھ مارا جس سے پیالہ گر کر ٹوٹ گیا ۲؎تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے پیالے کے ٹکڑے جمع کیے پھر جوکھانا پیالے میں تھا اس میں ڈالا ۳؎اور آپ فرماتے جاتے تھے کہ تمہاری ماں غیرت کر گئیں ۴؎پھر خادم کو روک لیا حتی کہ جن کے گھر میں حضور تھے ان کے پاس سے پیالہ لایا گیا تو جن کا پیالہ ٹوٹ گیا تھا انہیں درست پیالہ دے دیا ۵؎اور ٹوٹا ہوا پیالہ توڑنے والی کے گھر میں رکھ دیا ۶؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎بعض بیویوں سے مراد حضرت عائشہ صدیقہ ہیں جیسا کہ دوسری روایتوں میں ہےیا تو حضرت انس ان کا نام بھول گئے یا احترامًا ان کا نام ظاہر نہ فرمایا،کھانا بھیجنے والی بی بی صفیہ ہیں اور ہوسکتا ہے کہ حضرت زینب یا ام سلمہ ہوں،حضور کی بارگاہ میں اکثر و بیشتر ہدیے جب ہی آتے تھے جب کہ آپ حضرت عائشہ صدیقہ کے گھر پر ہوتے۔(اشعہ و مرقات)
۲
؎آپ خادم کو مارنا نہ چاہتی تھیں کہ وہ تو بے قصور تھا بلکہ ارادہ پیالہ پھینکنے کا تھا اس کے ہاتھ پر ہاتھ مارنا اسی نیت پر تھا۔چنانچہ خادم کو چوٹ نہ لگی اورپیالہ گر گیا اسی لیے حضور انور نے خادم کو قصاص نہ دلوایا پیالہ کا عوض دلوایا۔
۳
؎یہ ہے سرکار کا حلم و اخلاق اور نعمت الٰہی کی قدر دانی کہ آپ ام المؤمنین پر ناراض نہ ہوئے اور کھانا ضائع نہ جانے دیا۔اس سے پتہ لگا کہ گرے ہوئے لقمہ کو بھی جھاڑ پونچھ کر کھالینا چاہیے جیساکہ دوسری روایتوں میں صراحۃً آتا ہے۔
۴
؎یعنی ام المؤمنین نے یہ کام ظلمًا نہیں کیا نہ وہ اس میں گنہگار ہیں بلکہ فطرت بشری کی بنا پر کیا کہ قدرتی طور پر ہر بی بی اپنی سوکن کی چیز کو اپنے گھر آنا پسند نہیں کرتی،فطری چیز پر پکڑ نہیں ہواکرتی۔سبحان اللّٰه! کیسی برکت والی ماں ہیں کہ یہاں ان کی صفائی حضور انور بیان فرمارہے ہیں اور دوسرے مقام پر ان کی صفائیاللّٰهتعالٰی قرآن میں بیان فرمارہا ہے ان خطاؤں پر ہماری لاکھوں عبادتیں قربان۔
۵
؎یہ پیالہ کا ضمان نہ تھا ورنہ قیمت دلوائی جاتی کیونکہ پیالہ شرعًا مثلی چیز نہیں ہے قیمتی چیز ہے جس کے توڑنے پر بدلہ میں قیمت واجب ہوتی ہے بلکہ یہ عمل شریف اخلاقًا تھا کیونکہ دونوں پیالے حضور ہی کے تھے،وہاں ضمان کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔بعض شارحین نے اس کی اور وجہیں بھی بیان کی ہیں مگر یہ وجہ نہایت اعلٰی ہے،دینے والے بھی حضور ہیں اور لینے والے بھی،گھر کا سامان خاوند کا ہوتا ہے نہ کہ بیوی کی ملک۔
۶
؎اس سے دومسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ ٹوٹا پیالہ بھی مال ہے،اس کی بیع و معاوضہ جائز ہے،کبھی تو یہ ٹھیکریاں جُڑ کر کام دیتی ہیں اور کبھی الگ الگ ہی کچھ کام دے جاتی ہیں۔دوسرے یہ کہ کسی کی چیز توڑ دینا بھی غصب کی ایک قسم ہے جب کہ یہ توڑنا زیادتی کی بناء پر ہو اور اس کا تاوان لازم ہے اسی لیے صاحب مشکوٰۃ یہ حدیث غصب کے باب میں لائے،جناب عائشہ صدیقہ کا یہ فعل صورۃً تعدی تھا لہذا یہ اعتراض نہیں پڑسکتا کہ صاحب مشکوٰۃ یہ حدیثباب الغصبمیں کیوں لائے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2940