Main Icon

باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2947

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عِمْرَانَ بْن حُصَيْنٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ قَالَ: «لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ وَمَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً فَلَيْسَ مِنَّا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن عمران بن حصين عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «لا جلب ولا جنب ولا شغار في الإسلام ومن انتهب نهبة فليس منا» . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ نے فرمایا اسلام میں نہ تو دور سے لانا جائز نہ دور لے جانا جائز ۱؎نہ شغار حلال ۲؎اور جو لوٹ مچائے وہ ہم میں سے نہیں ۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎جلب و جنب زکوۃ میں بھی ہوتا ہے اور گھوڑ دوڑ میں بھی،ہم نے یہ معنے زکوۃ کے جلب و جنب کے کئے ہیں،اس کی شرح کتاب الزکوۃ میں گزرچکی۔گھوڑ دوڑ میں گھوڑے کے ساتھ دوسرا گھوڑا لگانا اس پر سے اس گھوڑے کو ڈاٹنا جلب ہے اور دوسرا گھوڑا خالی رکھنا کہ اس کے تھکنے پر اس پر سوار ہوجائے جنب ہے۔(لمعات)
۲
؎نکاح کے عوض نکاح کرنا کہ ہر ایک نکاح دوسرے نکاح کا مہر ہو شغارکہلاتا ہے۔امام اعظم کے ہاں یہ نکاح درست ہوگا اور شرط باطل مہر مثل واجب ہوگا،بعض اماموں کے ہاں نکاح ہی درست نہیں۔ان شاءاللّٰهاس کی بحثکتاب النکاحمیں ہوگی۔
۳
؎یعنی ہماری جماعت سے نہیں یا ہمارے طریقہ سے نہیں،ہم لوٹنے لٹانے یعنی بکھیر کا فرق پہلے عرض کرچکے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2947