Main Icon

باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2953

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْحَسَنِ عَن سَمُرَة أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَتٰى أَحَدُكُمْ عَلٰى مَاشِيَةٍ فَإِنْ كَانَ فِيهَا صَاحِبُهَا فَلْيَسْتَأْذِنْهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا فَلْيُصَوِّتْ ثَلَاثًا فَإِنْ أَجَابَهٗ أَحَدٌ فَلْيَسْتَأْذِنْهُ وَإِنْ لَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ فَلْيَحْتَلِبْ وَلْيَشْرَبْ وَلَا يَحْمِلْ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن الحسن عن سمرة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا أتى أحدكم على ماشية فإن كان فيها صاحبها فليستأذنه وإن لم يكن فيها فليصوت ثلاثا فإن أجابه أحد فليستأذنه وإن لم يجبه أحد فليحتلب وليشرب ولا يحمل» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حسن سے وہ حضرت سمرہ سے راوی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی جانوروں پر آئے تو اگر ان میں ان کا مالک موجود ہو تب تو اس سے اجازت لے لے ۱؎اور اگر وہاں مالک نہ ہو تو تین آوازیں دے اگر کوئی اس کی آواز کا جواب دے تو اس سے اجازت لے لے اور اگر کوئی جواب نہ دے تو دوہ لے اور پی لے مگر لے نہ جائے ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اور اجازت لےکرجانور دوہے،دودھ پئے کہ مالک کی اجازت پر اس کی چیز استعمال کرسکتے ہیں۔
۲
؎یہ حکم اس مجبور و مضطر کے لیے ہے جو بھوک سے مررہا ہو اور کوئی کھانے کی چیز میسر نہ ہو وہ ایسی مجبوری میں اس جانور کا دودھ بغیر مالک کی اجازت بھی پی لے بلکہ اگر مالک موجود ہو اور اجازت نہ دے تب بھی پی لے کہ جان جارہی ہے اس کا بچانا ضروری ہے،پھر جب خدا دے تو اس کی قیمت مالک کو ادا کردے اور یہ پینا بھی بقدر ضرورت جائز ہے جس سے جان بچ جائے،بلاضرورت یا ضرورت سے زیادہ ہرگز نہ پئے۔(مرقات،لمعات وغیرہ)ایسی مجبوری میں تو مردار بلکہ سور وغیرہ حرام گوشت بھی حلال ہوجاتے ہیں،رب فرماتا ہے:"فَمَنِ اضْطُرَّ فِیۡ مَخْمَصَۃٍ غَیۡرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ" اسی لیے حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ لے نہ جائے کہ یہ ضرورت سے زیادہ ہے لہذا حدیث پر چکڑالویوں کا یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کہ اس میں چوری جائز کردی گئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2953