- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- تجارتوں کا بیان
- حدیث نمبر 2942
باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2942
تجارتوں کا بیان - جلد 4
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلّٰى بِالنَّاسِ سِتَّ رَكَعَاتٍ بِأَرْبَعِ سَجَدَاتٍ فَانْصَرَفَ وَقَدْ آضَتِ الشَّمْسُ وَقَالَ: " مَا مِنْ شَيْءٍ تُوعَدُونَهٗ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهٗ فِي صَلَاتِي هٰذِهٖ لَقَدْ جِيءَ بِالنَّارِ وَذٰلِكَ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ مَخَافَةَ أَنْ يُصِيبَنِي مِنْ لَفْحِهَا وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَ الْمِحْجَنِ يَجُرُّ قُصْبَهٗ فِي النَّارِ وَكَانَ يَسْرِقُ الْحَاجَّ بِمِحْجَنِهٖ فَإِنْ فُطِنَ لَهٗ قَالَ: إِنَّمَا تَعَلَّقَ بِمِحْجَنِي،وَإِنْ غُفِلَ عَنْهُ ذَهَبَ بِهٖ وَحَتّٰى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَةَ الْهِرَّةِ الَّتِي رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتّٰى مَاتَتْ جُوعًا ثُمَّ جِيءَ بِالجَنَّةِ وَذٰلِكَ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَقَدَّمْتُ حَتّٰى قُمْتُ فِي مَقَامِي وَلَقَدْ مَدَدْتُ يَدِي وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَتَنَاوَلَ مِنْ ثَمَرَتِهَا لِتَنْظُرُوا إِلَيْهِ ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ لَا أَفْعَلَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ
وعن جابر قال: انكسفت الشمس في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم مات إبراهيم بن رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى بالناس ست ركعات بأربع سجدات فانصرف وقد آضت الشمس وقال: " ما من شيء توعدونه إلا قد رأيته في صلاتي هذه لقد جيء بالنار وذلك حين رأيتموني تأخرت مخافة أن يصيبني من لفحها وحتى رأيت فيها صاحب المحجن يجر قصبه في النار وكان يسرق الحاج بمحجنه فإن فطن له قال: إنما تعلق بمحجني،وإن غفل عنه ذهب به وحتى رأيت فيها صاحبة الهرة التي ربطتها فلم تطعمها ولم تدعها تأكل من خشاش الأرض حتى ماتت جوعا ثم جيء بالجنة وذلك حين رأيتموني تقدمت حتى قمت في مقامي ولقد مددت يدي وأنا أريد أن أتناول من ثمرتها لتنظروا إليه ثم بدا لي أن لا أفعل". رواه مسلم
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کے زمانہ میں سورج گہن گیا جس دن کہ حضرت ابراہیم ابن رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے وفات پائی ۱؎تو حضور نے لوگوں کو دو رکعتیں چھ رکوعوں اور چار سجدوں سے پڑھائی ۲؎پھر فارغ ہوئے حالانکہ سورج اصلی حالت پر لوٹ چکا تھا فرمایا جن چیزوں کی تمہیں خبر دی گئی ہے ان میں سے کوئی چیز نہیں مگر میں نے اپنی اس نماز میں وہ سب دیکھ لیں ۳؎حتی کہ آگ لائی گئی اور یہ جب تھا جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں پیچھے ہٹا ۴؎اس خوف سے کہ اس کی لپٹ مجھے پہنچ جائے ۵؎اور حتی کہ میں نے آگ میں تیرنے والے کو دیکھا جو اپنی آنتیں آگ میں کھینچ رہا ہے ۶؎وہ اپنے نیزے سے حاجیوں کی چوری کرلیتا تھا اگر اس کی حرکت معلوم ہوجاتی تو کہہ دیتا تھا کہ یہ میرے نیزے سے لگ رہا اور اگر اس سے بے خبر رہی تو لے جاتا ۷؎اور حتی کہ میں نے اس میں بلی والی کو دیکھا جس نے بلی کو باندھ رکھا کہ اسے کچھ نہ کھلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھالیتی یہاں تک کہ وہ بھوک سے مر گئی ۸؎پھرجنت لائی گئی اور یہ جب تھا کہ تم نے مجھے دیکھا کہ میں آگے بڑھا حتی کہ اپنی جگہ کھڑاہوگیا ۹؎اور میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا میں چاہتا تھا کہ اس کے کچھ پھل لے لوں تاکہ تم انہیں دیکھو پھر رائے یہ ہی قائم ہوئی کہ ایسا نہ کروں ۱۰؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎اس کی تحقیقباب صلوۃ الکسوفمیں ہوچکی کہ حضرت ابراہیم رضی اللّٰہ عنہ کی وفات چاند کی دسویں تاریخ کو ہوئی،ریاضی کے قاعدہ سے اس دن سورج گرہن لگ سکتا ہی نہ تھا مگر رب تعالٰی نے ان کا قاعدہ توڑ دیا،حضرت ابراہیم رضی اللّٰہ عنہ بقر عید ۸ھ∞ میں بی بی ماریہ قبطیہ کے پیٹ سے پیدا ہوئے اور سولہ یا اٹھارہ مہینہ کی عمر پاکر وفات پا گئے اور بقیع میں دفن ہوئے۔
۲؎اس طرح کہ ہر رکعت میں تین رکوع اور دو سجدے کیے اس کی تحقیق نماز کسوف میں گزرچکی ۔ہمارے ہاں اس نماز کی ہر رکعت میں بھی اور نمازوں کی طرح ایک رکوع اور دو سجدے ہی ہوں گے،اس کے جوابات اسی باب میں عرض کردیئے گئے۔
۳؎یعنی جنت اور وہاں کی نعمتیں اور دوزخ اور وہاں کے سارے عذاب اپنی ان آنکھوں سے ملاحظہ فرمالیے،حدیث بالکل ظاہری معنے پر ہے۔اس میں کسی تاویل اور توجیہ کی ضرورت نہیں اس کی پوری تحقیق نماز کسوف میں ہوچکی ہے۔
۴؎باب الکسوفمیں گزرچکا کہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اس نماز میں دوبار کچھ جنبش فرمائی ایک بار تو آگے بڑھ کر کچھ لینے کے ارادے سے اور ایک بار پیچھے ہٹ کر بچنے کے قصد سے،اُسے فرمارہے ہیں کہ جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں عین نماز کی حالت میں کسی خطرناک چیز سے بچتے ہوئے پیچھے ہٹا تو اس وقت دوزخ ہمارے سامنے تھی اس سے بچنا مقصود تھا۔
۵؎یہ فرمان ایسا ہی ہے جیسے کہ بادل یا آندھی آنے پر حضور انور کا چہرہ مبارک متغیر ہوجاتا تھا کہ کہیں عذاب یا قیامت نہ آگئی ہو،حالانکہ سرکار کو معلوم تھا کہ قیامت ابھی نہیں آسکتی اور آپ کے ہوتے عذاب نازل نہیں ہوسکتا،یوں ہی حضور انور کو معلوم تھا کہ دوزخ کی آگ ہم پر اثر نہیں کرسکتی،حضور انور کی تو بڑی شان ہے۔مؤمن دوزخ میں جا کر دوزخی مسلمان کو نکال لائیں گے اور آگ کے اثر سے محفوظ رہیں گے، یہ خوف دراصل خوف الٰہی ہے لہذا یہ حدیث واضح ہے۔
۶؎محجن حجنسے بنا بمعنی اپنی طرف کھینچنا،ابمحجنوہ لاٹھی ہے جس کے کنارے پر خم دار گولا لگا ہو اس کے ذریعہ آسانی سے چیز اپنی طرف کھینچی جائے،اسمحجنوالے کا نام عمرو ابن لحٰی ہے،لام کے پیش ح کے فتح سے۔قصببمعنی آنت جمعاقصابیعنی اس کی آنتیں باہر نکل پڑی تھیں۔جب وہ چلتا پھرتا ہے تو آنتیں گھسٹتی ہیں۔رب کی پناہ!
۷؎غرضکہ فیشن ایبل(Fashion Able)سیاسی چور تھا کہ حجاج کے کپڑے دن دہاڑے اس طرح چوری کرتا تھا کہ پکڑا بھی نہ جائے اور چوری بھی کرے،مالک نے دیکھ لیا تو کہہ دیا ارے مجھے خبر نہ ہوئی کہ میرے محجن سے تیرا کپڑا لگ گیا ہے،نہ دیکھا تو مال اپنا کرلیا۔
۸؎شاید یہ عورت اسرائیلی تھی جس نے بلی پر یہ ظلم کیا تھا۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اس نماز میں جنت و دوزخ ملاحظہ فرمایا جو عالَم غیب کی چیز ہیں۔دوسرے یہ کہ قیامت کی بعد ہونے والے عذابوں کو حضور کی نگاہ ملاحظہ فرمالیتی ہے یعنی آپ اگلے پچھلے کھلے چھپے حالات کو دیکھ لیتے ہیں۔تیسرے یہ کہ یہ حرکت نماز فاسد نہیں کرتی۔چوتھے یہ کہ جانوروں پرظلم بھی عذاب کا باعث ہے۔اس کی مکمل بحث ہم نماز کسوف کے بیا ن میں کرچکے ہیں۔
۹؎ظاہر یہ ہے کہمقامی(اپنی جگہ)سے مراد آخری وہ جگہ ہےجہاں تک آپ آگے بڑھ کر پہنچے تھے اور ہوسکتا ہے کہ مطلب یہ ہو کہ پہلے ہم آگے بڑھے،پھر پیچھے ہٹے حتی کہ مصلےٰ پر وہاں ہی لوٹ آئے جو ہماری جگہ تھی۔
۱۰؎یعنی ہم نے ہاتھ بڑھایا اور ہمارا ہاتھ جنت کے خوشہ تک پہنچ گیا چاہا کہ توڑ لیں اوراس غیبی پھل کو شہودی بناکر تمہیں دکھاویں بلکہ کھلا دیں مگرخیال یہ ہوا کہ جنت و دوزخ پر ایمان بالغیب نہ رہے گا اس لیے چھوڑ دیا،بعض روایات میں ہے کہ اگر ہم وہ پھل توڑ لیتے تو تم تاقیامت کھاتے رہتے کبھی ختم نہ ہوتے۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جنت و دوزخ پیدا ہوچکی ہیں۔دوسرے یہ کہ جنت کے پھل دنیا کی طرح عینی اور حقیقی خیالی و تمثیلی نہیں۔تیسرے یہ کہ ہلاکت اور عذاب کی جگہ سے ہٹ جانا سنت ہے۔چوتھے یہ کہ تھوڑا عمل نماز کو فاسد نہیں کرتا۔پانچویں یہ کہ گناہ صغیرہ ہمیشہ کرنے سے کبیرہ بن جاتا ہے اور دوزخ کا سبب ہوجاتا ہے۔چھٹے یہ کہ رب نے حضور کے ہاتھ میں وہ قدرت دی ہے کہ اٹھے تو مغرب و مشرق میں پہنچ جائے اور ہر جگہ تصرف کرکے،دیکھو بظاہر ہاتھ شریف دو تین فٹ کے فاصلہ پر پہنچا لیکن درحقیقت وہ جنت میں پہنچ چکا تھا اور وہاں کے خوشے پکڑ چکا تھا اب بھی حضور کا ہاتھ ہر بیکس کو سہارا دیتا ہے۔ساتویں یہ کہ حضور جنت اور وہاں کی نعمتوں کے مالک ہیں جو چاہیں لے لیں اور دے دیں،دیکھو اس موقعہ پر رب نے نہ فرمایا کہ آپ خوشہ کیوں توڑ رہے ہیں حضور انور نے خود ہی چھوڑ دیا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2942