Main Icon

باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2942

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلّٰى بِالنَّاسِ سِتَّ رَكَعَاتٍ بِأَرْبَعِ سَجَدَاتٍ فَانْصَرَفَ وَقَدْ آضَتِ الشَّمْسُ وَقَالَ: " مَا مِنْ شَيْءٍ تُوعَدُونَهٗ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهٗ فِي صَلَاتِي هٰذِهٖ لَقَدْ جِيءَ بِالنَّارِ وَذٰلِكَ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ مَخَافَةَ أَنْ يُصِيبَنِي مِنْ لَفْحِهَا وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَ الْمِحْجَنِ يَجُرُّ قُصْبَهٗ فِي النَّارِ وَكَانَ يَسْرِقُ الْحَاجَّ بِمِحْجَنِهٖ فَإِنْ فُطِنَ لَهٗ قَالَ: إِنَّمَا تَعَلَّقَ بِمِحْجَنِي،وَإِنْ غُفِلَ عَنْهُ ذَهَبَ بِهٖ وَحَتّٰى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَةَ الْهِرَّةِ الَّتِي رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتّٰى مَاتَتْ جُوعًا ثُمَّ جِيءَ بِالجَنَّةِ وَذٰلِكَ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَقَدَّمْتُ حَتّٰى قُمْتُ فِي مَقَامِي وَلَقَدْ مَدَدْتُ يَدِي وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَتَنَاوَلَ مِنْ ثَمَرَتِهَا لِتَنْظُرُوا إِلَيْهِ ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ لَا أَفْعَلَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن جابر قال: انكسفت الشمس في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم مات إبراهيم بن رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى بالناس ست ركعات بأربع سجدات فانصرف وقد آضت الشمس وقال: " ما من شيء توعدونه إلا قد رأيته في صلاتي هذه لقد جيء بالنار وذلك حين رأيتموني تأخرت مخافة أن يصيبني من لفحها وحتى رأيت فيها صاحب المحجن يجر قصبه في النار وكان يسرق الحاج بمحجنه فإن فطن له قال: إنما تعلق بمحجني،وإن غفل عنه ذهب به وحتى رأيت فيها صاحبة الهرة التي ربطتها فلم تطعمها ولم تدعها تأكل من خشاش الأرض حتى ماتت جوعا ثم جيء بالجنة وذلك حين رأيتموني تقدمت حتى قمت في مقامي ولقد مددت يدي وأنا أريد أن أتناول من ثمرتها لتنظروا إليه ثم بدا لي أن لا أفعل". رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کے زمانہ میں سورج گہن گیا جس دن کہ حضرت ابراہیم ابن رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے وفات پائی ۱؎تو حضور نے لوگوں کو دو رکعتیں چھ رکوعوں اور چار سجدوں سے پڑھائی ۲؎پھر فارغ ہوئے حالانکہ سورج اصلی حالت پر لوٹ چکا تھا فرمایا جن چیزوں کی تمہیں خبر دی گئی ہے ان میں سے کوئی چیز نہیں مگر میں نے اپنی اس نماز میں وہ سب دیکھ لیں ۳؎حتی کہ آگ لائی گئی اور یہ جب تھا جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں پیچھے ہٹا ۴؎اس خوف سے کہ اس کی لپٹ مجھے پہنچ جائے ۵؎اور حتی کہ میں نے آگ میں تیرنے والے کو دیکھا جو اپنی آنتیں آگ میں کھینچ رہا ہے ۶؎وہ اپنے نیزے سے حاجیوں کی چوری کرلیتا تھا اگر اس کی حرکت معلوم ہوجاتی تو کہہ دیتا تھا کہ یہ میرے نیزے سے لگ رہا اور اگر اس سے بے خبر رہی تو لے جاتا ۷؎اور حتی کہ میں نے اس میں بلی والی کو دیکھا جس نے بلی کو باندھ رکھا کہ اسے کچھ نہ کھلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھالیتی یہاں تک کہ وہ بھوک سے مر گئی ۸؎پھرجنت لائی گئی اور یہ جب تھا کہ تم نے مجھے دیکھا کہ میں آگے بڑھا حتی کہ اپنی جگہ کھڑاہوگیا ۹؎اور میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا میں چاہتا تھا کہ اس کے کچھ پھل لے لوں تاکہ تم انہیں دیکھو پھر رائے یہ ہی قائم ہوئی کہ ایسا نہ کروں ۱۰؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس کی تحقیقباب صلوۃ الکسوفمیں ہوچکی کہ حضرت ابراہیم رضی اللّٰہ عنہ کی وفات چاند کی دسویں تاریخ کو ہوئی،ریاضی کے قاعدہ سے اس دن سورج گرہن لگ سکتا ہی نہ تھا مگر رب تعالٰی نے ان کا قاعدہ توڑ دیا،حضرت ابراہیم رضی اللّٰہ عنہ بقر عید ۸ھ؁∞ میں بی بی ماریہ قبطیہ کے پیٹ سے پیدا ہوئے اور سولہ یا اٹھارہ مہینہ کی عمر پاکر وفات پا گئے اور بقیع میں دفن ہوئے۔
۲
؎اس طرح کہ ہر رکعت میں تین رکوع اور دو سجدے کیے اس کی تحقیق نماز کسوف میں گزرچکی ۔ہمارے ہاں اس نماز کی ہر رکعت میں بھی اور نمازوں کی طرح ایک رکوع اور دو سجدے ہی ہوں گے،اس کے جوابات اسی باب میں عرض کردیئے گئے۔
۳
؎یعنی جنت اور وہاں کی نعمتیں اور دوزخ اور وہاں کے سارے عذاب اپنی ان آنکھوں سے ملاحظہ فرمالیے،حدیث بالکل ظاہری معنے پر ہے۔اس میں کسی تاویل اور توجیہ کی ضرورت نہیں اس کی پوری تحقیق نماز کسوف میں ہوچکی ہے۔
۴
؎باب الکسوفمیں گزرچکا کہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اس نماز میں دوبار کچھ جنبش فرمائی ایک بار تو آگے بڑھ کر کچھ لینے کے ارادے سے اور ایک بار پیچھے ہٹ کر بچنے کے قصد سے،اُسے فرمارہے ہیں کہ جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں عین نماز کی حالت میں کسی خطرناک چیز سے بچتے ہوئے پیچھے ہٹا تو اس وقت دوزخ ہمارے سامنے تھی اس سے بچنا مقصود تھا۔
۵
؎یہ فرمان ایسا ہی ہے جیسے کہ بادل یا آندھی آنے پر حضور انور کا چہرہ مبارک متغیر ہوجاتا تھا کہ کہیں عذاب یا قیامت نہ آگئی ہو،حالانکہ سرکار کو معلوم تھا کہ قیامت ابھی نہیں آسکتی اور آپ کے ہوتے عذاب نازل نہیں ہوسکتا،یوں ہی حضور انور کو معلوم تھا کہ دوزخ کی آگ ہم پر اثر نہیں کرسکتی،حضور انور کی تو بڑی شان ہے۔مؤمن دوزخ میں جا کر دوزخی مسلمان کو نکال لائیں گے اور آگ کے اثر سے محفوظ رہیں گے، یہ خوف دراصل خوف الٰہی ہے لہذا یہ حدیث واضح ہے۔
۶
؎محجن حجنسے بنا بمعنی اپنی طرف کھینچنا،ابمحجنوہ لاٹھی ہے جس کے کنارے پر خم دار گولا لگا ہو اس کے ذریعہ آسانی سے چیز اپنی طرف کھینچی جائے،اسمحجنوالے کا نام عمرو ابن لحٰی ہے،لام کے پیش ح کے فتح سے۔قصببمعنی آنت جمعاقصابیعنی اس کی آنتیں باہر نکل پڑی تھیں۔جب وہ چلتا پھرتا ہے تو آنتیں گھسٹتی ہیں۔رب کی پناہ!
۷
؎غرضکہ فیشن ایبل(Fashion Able)سیاسی چور تھا کہ حجاج کے کپڑے دن دہاڑے اس طرح چوری کرتا تھا کہ پکڑا بھی نہ جائے اور چوری بھی کرے،مالک نے دیکھ لیا تو کہہ دیا ارے مجھے خبر نہ ہوئی کہ میرے محجن سے تیرا کپڑا لگ گیا ہے،نہ دیکھا تو مال اپنا کرلیا۔
۸
؎شاید یہ عورت اسرائیلی تھی جس نے بلی پر یہ ظلم کیا تھا۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اس نماز میں جنت و دوزخ ملاحظہ فرمایا جو عالَم غیب کی چیز ہیں۔دوسرے یہ کہ قیامت کی بعد ہونے والے عذابوں کو حضور کی نگاہ ملاحظہ فرمالیتی ہے یعنی آپ اگلے پچھلے کھلے چھپے حالات کو دیکھ لیتے ہیں۔تیسرے یہ کہ یہ حرکت نماز فاسد نہیں کرتی۔چوتھے یہ کہ جانوروں پرظلم بھی عذاب کا باعث ہے۔اس کی مکمل بحث ہم نماز کسوف کے بیا ن میں کرچکے ہیں۔
۹
؎ظاہر یہ ہے کہمقامی(اپنی جگہ)سے مراد آخری وہ جگہ ہےجہاں تک آپ آگے بڑھ کر پہنچے تھے اور ہوسکتا ہے کہ مطلب یہ ہو کہ پہلے ہم آگے بڑھے،پھر پیچھے ہٹے حتی کہ مصلےٰ پر وہاں ہی لوٹ آئے جو ہماری جگہ تھی۔
۱۰
؎یعنی ہم نے ہاتھ بڑھایا اور ہمارا ہاتھ جنت کے خوشہ تک پہنچ گیا چاہا کہ توڑ لیں اوراس غیبی پھل کو شہودی بناکر تمہیں دکھاویں بلکہ کھلا دیں مگرخیال یہ ہوا کہ جنت و دوزخ پر ایمان بالغیب نہ رہے گا اس لیے چھوڑ دیا،بعض روایات میں ہے کہ اگر ہم وہ پھل توڑ لیتے تو تم تاقیامت کھاتے رہتے کبھی ختم نہ ہوتے۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جنت و دوزخ پیدا ہوچکی ہیں۔دوسرے یہ کہ جنت کے پھل دنیا کی طرح عینی اور حقیقی خیالی و تمثیلی نہیں۔تیسرے یہ کہ ہلاکت اور عذاب کی جگہ سے ہٹ جانا سنت ہے۔چوتھے یہ کہ تھوڑا عمل نماز کو فاسد نہیں کرتا۔پانچویں یہ کہ گناہ صغیرہ ہمیشہ کرنے سے کبیرہ بن جاتا ہے اور دوزخ کا سبب ہوجاتا ہے۔چھٹے یہ کہ رب نے حضور کے ہاتھ میں وہ قدرت دی ہے کہ اٹھے تو مغرب و مشرق میں پہنچ جائے اور ہر جگہ تصرف کرکے،دیکھو بظاہر ہاتھ شریف دو تین فٹ کے فاصلہ پر پہنچا لیکن درحقیقت وہ جنت میں پہنچ چکا تھا اور وہاں کے خوشے پکڑ چکا تھا اب بھی حضور کا ہاتھ ہر بیکس کو سہارا دیتا ہے۔ساتویں یہ کہ حضور جنت اور وہاں کی نعمتوں کے مالک ہیں جو چاہیں لے لیں اور دے دیں،دیکھو اس موقعہ پر رب نے نہ فرمایا کہ آپ خوشہ کیوں توڑ رہے ہیں حضور انور نے خود ہی چھوڑ دیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2942