Main Icon

باب:دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2223

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ، فتَعَجَّلَ كُلُّ نَبِيٍّ دَعْوَتَهٗ، وَإِنِّيْ اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِيْ شَفَاعَةً لِأُمَّتِيْ إِلٰى يَومِ القِيَامَةِ، فَهِيَ نائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِيْ لَا يُشْرِكُ بِاللّٰهِ شَيْئًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ، وَلِلْبُخَارِيِّ أَقْصَرُ مِنْهُ.

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لكل نبي دعوة مستجابة، فتعجل كل نبي دعوته، وإني اختبأت دعوتي شفاعة لأمتي إلى يوم القيامة، فهي نائلة إن شاء الله من مات من أمتي لا يشرك بالله شيئا". رواه مسلم، وللبخاري أقصر منه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ ہر نبی کی ایک دعا خصوصًا قبول ہوتی ہے تو ہر نبی نے اپنی وہ دعا یہاں استعمال کرلی ۱؎اور میں نے اپنی دعا روز قیامت کے لیے بچا رکھی اپنی امت کی شفاعت کے واسطے چنانچہ میری وہ دعاان شاءاﷲمیرے ہر اس امتی کو پہنچے گی جو اس طرح مرے کہ رب تعالٰی کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو۲؎(مسلم)اور بخاری میں کچھ مختصر ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی یوں تو انبیاء کرام کی قریبًا ساری دعائیں ہی قبول ہیں مگر رب تعالٰی کی طرف سے ہر نبی کو ایک خصوصی دعا عطا ہوتی ہے جس کے متعلق رب تعالٰی کا حتمی وعدہ ہوتا ہے کہ ہم ضرور قبول کریں گے تمام نبیوں نے اپنی اپنی دعائیں دنیا میں استعمال فرمالیں کسی بزرگ نے ہلاکت کفار کے لیے جیسے حضرت نوح،صالح،لوط و ہودعلیہم الصلوۃ والتسلیمات اور بعض انبیائے کرام نے کسی اور مقصد کے لیے استعمال فرمالیں جیسے حضرت ابراہیم اسماعیل یعقوب و یوسف علیہم الصلوۃ والسلام کسی بزرگ نے اپنی دعا کسی مقصد میں استعمالی فرمالی یہ بہت وسیع مضمون ہے۔(اشعۃ اللمعات)
۲
؎یعنی میں نے اپنی وہ دعا یہاں استعمال نہ کی بلکہ قیامت کے لیے اٹھا ر کھی ہے اس سے اپنی امت کی شفاعت کروں گا اور اسی کا فائدہ ہر وہ شخص اٹھائے گا جسے ایمان پر خاتمہ نصیب ہو۔ خیال رہے کہ ایسے موقع پر شرک نہ کرنے سے مراد کفر نہ کرنا ہے جیسے رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَكَ بِہٖ"الخ لہذا اس حدیث سے یہ لازم نہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی شفاعت مرزائیوں،چکڑالویوں وغیرہ مرتدین کو پہنچے گی کہ یہ لوگ مشرک تو نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2223