Main Icon

باب:دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2246

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَسْتَحِبُّ الْجَوَامِعَ مِنَ الدُّعَاءِ، وَيَدَعُ مَا سِوٰى ذٰلِكَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن عائشة قالت: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يستحب الجوامع من الدعاء، ويدع ما سوى ذلك. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم جامع دعائیں پسند فرماتے تھے اور اس کے ماسواء دعائیں چھوڑ دیتے تھے ۱؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎جامع دعا وہ کہلاتی ہے جس کے الفاظ تھوڑے ہوں،معافی زیادہ جیسے"رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَاحَسَنَۃً"الایہ۔اور جیسے"اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِی الدِّیْنِ وَالدُّنْیَاوَالْاٰخِرَۃِ"۔یہاں عمومی حالات مراد ہیں یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم عام طور پر جامع دعائیں مانگتے تھے،خاص موقعوں پر خاص دعائیں بھی مانگی ہیں۔جیسے استسقاء میں بارش کی دعا وغیرہ لہذا یہ حدیث ان روایات کے خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2246