Main Icon

باب:دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2243

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَفِيْ رِوَايَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: "سَلُوا اللّٰهَ بِبُطُوْنِ أَكُفِّكُمْ، وَلَا تَسْأَلُوْهُ بِظُهُوْرِهَا، فَإِذَا فَرَغْتُمْ فَامْسَحُوْا بهَا وُجُوْهَكُمْ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُد.

وفي رواية ابن عباس قال: "سلوا الله ببطون أكفكم، ولا تسألوه بظهورها، فإذا فرغتم فامسحوا بها وجوهكم". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

اور حضرت ابن عباس کی روایت میں یوں ہے کہ اللہ سے دعا کرو ہتھیلیاں پھیلا کر نہ ہاتھ کی پشت سے پھر جب فارغ ہوجاؤ تو منہ پر ہاتھ پھیر لو۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۲∞؎کیونکہ پھیلے ہوئے ہاتھوں پر اللہ کی رحمت اترتی ہے ان ہاتھوں کے منہ پر پھیر لینے سے رحمت منہ پر پہنچ جاتی ہے،یہ عملی سنت بھی ہے اتباع سنت میں برکت ہےمرقا ۃ ۔ہاں بعض علماء نے فرمایا کہ کھانے کے بعد جو دعا مانگی جاتی ہے اگر مجمع میں کھانا کھایا جائے تو اس دعا میں ہاتھ نہ اٹھائے تاکہ ان لوگوں کو شرمندگی نہ ہو جو ابھی تک فارغ نہ ہوئے۔حصن حصین شریف میں ہے کہ ہاتھ اٹھانا آداب دعا سے ہے جن احادیث میں ہے کہ نبی کر یم صلی اللہ علیہ و سلم سوائے استسقاء کے اور دعاؤں میں ہاتھ نہ اٹھاتے تھے وہاں زیادہ اونچے ہاتھ اٹھانا مراد ہے یعنی نماز استسقاء میں ہاتھ سر مبارک سے اونچے اٹھاتے تھے باقی دعاؤں میں سینے کے مقابل لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2243