Main Icon

باب:دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2234

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ الدُّعَاءَ يَنْفَعُ مِمَّا نَزَلَ وَمِمَّا لَمْ يَنْزِلْ، فَعَلَيْكُمْ عِبَادَ اللّٰهِ بِالدُّعَاءِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن الدعاء ينفع مما نزل ومما لم ينزل، فعليكم عباد الله بالدعاء". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دعا نازل شدہ آفت میں بھی نافع ہے اور اس بلا میں بھی جو نہ اتری ہو ۱؎تو اے اللہ کے بندو دعا کو مضبوط پکڑو ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی دعا کے دو فائدے ہیں: ایک یہ کہ اس کی برکت سے آئی بلا ٹل جاتی ہے۔دوسرے یہ کہ آنے والی بلا رک جاتی ہے،لہذا فقط بلا آنے پر ہی دعا نہ کرو بلکہ ہر وقت دعا مانگو شائد کوئی بلا آنے والی ہو کہ اس دعا سے رک جائے۔اس کا مطلب وہ ہی ہے جو ابھی بیان ہوا کہ یہ سب تقدیرمعلق کے متعلق ہے۔
۲
؎اس طرح کہ حال میں دعائیں مانگو،دعا کیلیے بلاء آنے کا انتطار نہ کرو کہ جب آفت آئے گی تو دعا مانگ لیں گے ۔امام غزالی فرماتے ہیں کہ جیسے ڈھال سلاح یعنی ہتھیارکا وار روک لیتی ہے اور جیسے پانی لگی پیاس بجھادیتا ہے یعنی ڈھال اور پانی ان کے اسباب ہیں ایسے ہی دعا آئی ہوئی بلا کا وار روک لیتی ہے اور لگی آگ بجھادیتی ہے،اسباب بھی رب تعالٰی کی طرف سے ہیں اور مسببات بھی، رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَلْیَاۡخُذُوۡا حِذْرَهُمْ وَاَسْلِحَتَہُمْ"جنگ میں اپنا بچاؤ اور ہتھیار لے کر جاؤ لہذا دنیا میں بھی انسان دعاؤں کا بچاؤ اور نیک اعمال کے ہتھیار لے کر رہے،ورنہ آفات کچل دیں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2234