Main Icon

باب:دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2249

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمْ: الصَّائِمُ حِيْنَ يُفْطِرُ، وَالإِمَامُ الْعَادِلُ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُوْمِ يَرْفَعُهَا اللّٰهُ فَوْقَ الْغَمَامِ، وَتُفْتَحُ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَيَقُوْلُ الرَّبُّ: وَعِزَّتِيْ لأَنْصُرَنَّكَ وَلَوْ بَعْدَ حِيْنٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ثلاثة لا ترد دعوتهم: الصائم حين يفطر، والإمام العادل، ودعوة المظلوم يرفعها الله فوق الغمام، وتفتح لها أبواب السماء، ويقول الرب: وعزتي لأنصرنك ولو بعد حين". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے تین شخصوں کی دعا رد نہیں ہوتی ۱؎روزہ دار کی جب افطار کررہا ہو ۲؎انصاف والے حاکم کی۳؎اور مظلوم کی دعا کو توتعالٰی بادلوں کے اوپر اٹھا لیتا ہے۴؎اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور رب تعالٰی فرماتا ہے مجھے اپنی عزت کی قسم میں تیری ضرور مدد کروں گا اگرچہ کچھ دیر بعد سہی ۵؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎شخصوں سے مراد مسلمان ہیں مرد ہوں یا عورت کفار اس میں داخل نہیں،دعا رد نہ ہونے کا وہ مطلب ہے جو پہلے عرض کیا جا چکا ہے،عطائے مدعی،رد بلا،رفع درجات۔
۲
؎کیونکہ یہ عبادت سے فراغت کا وقت ہے بعد عبادت دعائیں قبول ہوتی ہیں اس لیے نماز،حج،زکوۃ،سے فراغت پر دعائیں کرنا چاہیئے۔ معلوم ہوا کہ بعد نماز جنازہ بھی دعا کی جائے کہ وہ بھی رب کی عبادت ہے اور عبادت کے بعد دعا قبول ہے۔
۳
؎مرقات نے فرمایا کہ مسلمان حاکم کا ایک گھڑی عدل و انصاف کرنا ساٹھ برس کی عبادت سے افضل ہے کہ اس عدل سے خلق خدا کا نظام قائم ہے۔
۴
؎مرقات نے فرمایا کہ مظلوم جانور بلکہ مظلوم کافر و فاسق کی بھی دعا قبول ہوتی ہے اگرچہ مسلمان مظلوم کی دعا زیادہ قبول ہے، کیونکہ مظلوم مضطرو بے قرار ہوتا ہے اور بے قرار کی دعا عرش پر قرار کرتی ہے رب فرماتاہے:"اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ"دعا کو بادلوں پر اٹھانے اس کے لیے آسمان کے دروازے کھولے جانے کا مطلب بہت جلد سننا اور اس کی دعا کی عزت افزائی اور اہمیت کا اظہا ر فرمانا۔
۵
؎حینعربی میں مطلقًا وقت کو کہتے ہیں مگر اکثر کم سے کم چھ ماہ اور زیادہ سے زیادہ چالیس سال پر بولتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ میں حلیم ہوں،لہذا ظالم کو جلد نہیں پکڑتا۔اسے توبہ اور مظلوم سے معافی مانگنے کا وقت دیتا ہوں،اگر وہ اس مہلت سے فائدہ نہ اٹھائے تو پکڑتا ہوں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2249