Main Icon

باب:دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2240

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ سَرَّهٗ أَنْ يَسْتَجِيْبَ اللّٰهُ لَهٗ عِنْدَ الشَّدَائِدِ فَلْيُكْثِرِ الدُّعَاءَ فِي الرَّخَاءِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "من سره أن يستجيب الله له عند الشدائد فليكثر الدعاء في الرخاء". رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نےجوچاہےکہ مصیبتوں کے وقتاس کی دعا قبول کرے تو وہ آرام کے زمانہ میں دعائیں زیادہ مانگا کرے ۱؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎اس کی وجہ ظاہر ہے کہ صرف مصیبت میں دعا مانگنا اور راحت میں رب سے غافل ہوجانا خود غرضی ہے اور ہر وقت دعا مانگنا عبدیت ہے رب کو خود غرضی ناپسند ہے عبدیت پسند خود فرماتاہے:"وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَی الْاِنۡسَانِ اَعْرَضَ وَنَاٰ بِجَانِبِہٖ وَ اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ فَذُوۡ دُعَآءٍ عَرِیۡضٍ"۔ایسے خود غرض کا حشر یہ ہوتا ہے کہ رب تعالٰی فرماتاہے اس پر مصیبت رہنے دو تاکہ اسی بہانے میرے دروازے پر حاضر رہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2240