Main Icon

باب:دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2227

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "يُسْتَجَابُ لِلْعَبْدِ مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ أَوْ قَطِيْعَةِ رَحِمٍ مَا لَمْ يَسْتَعْجِلْ". قِيْلَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! مَا الِاسْتِعْجَالُ؟ قَالَ: "يَقُوْلُ: قَدْ دَعَوْتُ وَقَدْ دَعَوْتُ فَلَمْ أَرَ يُسْتَجَابُ لِيْ،فَيَسْتَحْسِرُ عِنْدَ ذٰلِكَ وَيَدَعُ الدُّعاءَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يستجاب للعبد ما لم يدع بإثم أو قطيعة رحم ما لم يستعجل". قيل: يا رسول الله! ما الاستعجال؟ قال: "يقول: قد دعوت وقد دعوت فلم أر يستجاب لي،فيستحسر عند ذلك ويدع الدعاء". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بندے کی دعا قبول ہوتی ہے جب تک کہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ مانگے ۱؎جب تک کہ جلد بازی سے کام نہ لے عرض کیا گیا یارسول اللہ جلد بازی کیا ہے فرمایا یہ کہ کہے میں نے دعا مانگی اور مانگی مگر مجھے امید نہیں کہ قبول ہو لہذا اس پر دل تنگ ہوجائے اور دعا مانگنا چھوڑ دے۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس سے معلوم ہوا کہ گناہ کی دعا نہ مانگے کہ خدایا مجھے شراب پینا نصیب کریا فلاں کو قتل کردینے کا موقع دے،نیز جن رشتوں کے جوڑنے کا حکم ہے ان کے توڑنے کی دعا نہ کرے کہ خدایا مجھے میرے با پ سے دور رکھ۔ یہاں مرقات نے فرمایا کہ ناممکن چیزوں کی دعا مانگنا بھی منع ہے جیسے خدا مجھے دنیا میں ان آنکھوں سے اپنا دیدار کرادے یا فلاں مسلمان کو ہمیشہ دوزخ میں رکھ یا فلاں کافر کو بخش دے اسی لیے کفار و مرتدین کو مرحوم مغفور یا رحمۃ اللہ علیہ کہنا جرم ہے،مطلب حدیث کا یہ ہے کہ قبولیت دعا کی ایک شرط یہ ہے کہ ناجائز چیزوں کی دعا نہ کرے ورنہ قبول نہ ہوگی۔
۲
؎یعنی قبول دعا کی دوسری شرط یہ ہے کہ اگر قبول دعا میں دیر لگے تو نہ دل تنگ ہو نہ رب تعالٰی کی رحمت سے مایوس،دیکھو حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام کی دعا کہ خدایا فرعون کو ہلاک کردے چالیس سال کے بعد قبول ہوئی یعنی قبول کا اظہار اتنے عرصہ بعد ہوا،یعقوب علیہ السلام فراق یوسف علیہ السلام میں چالیس یا اسی سال تک روئے مگر رب تعالٰی کی رحمت سے مایوس نہ ہوئے بلکہ اپنے بچوں سے فرمایا"وَلَا تَایۡـَٔسُوۡا مِنۡ رَّوْحِ اللّٰہِ"اے بچو اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔غرضکہ ہر کام کا ایک وقت ہے،دعا مانگے جائے،مانگنا بندے کا کام ہے دینا رب تعالٰی کا کام اپنے کام کو اس کے کام پر موقوف نہ کیجئے۔شعر
حافظ وظیفہ تو دعا کردن است و بس دربند آں مباش کہ شنید یا نہ شنید
قبول دعا کی بہت قسمیں ہیں،مدعامل جانا،دعا کی برکت سے کوئی آفت ٹل جانا دعا کا ثواب مل جانا،درجات بلند ہوجانا،جو کچھ ہوجائے ہمارا مدعا حاصل ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2227