Main Icon

باب:دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2247

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ أَسْرَعَ الدُّعَاءِ إِجَابَةً دَعْوَةُ غَائِبٍ لِغَائِبٍ"رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

وعن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن أسرع الدعاء إجابة دعوة غائب لغائب"رواه الترمذي وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے بہت جلد قبول ہونے والی دعا غائب کی غائب کے لیے ہے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جب کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے اس کی غیر موجودگی میں دعائے خیر کرے تو بہت جلد قبول ہوتی ہے اس کی وجہ ظاہر ہے کہ یہ شخص مسلمان بھائی کا خیر خواہ بھی ہے اور مخلص بھی،سامنے دعا کرنے میں ریاء دکھلاوے و خوشامد کا احتمال ہوسکتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2247