Main Icon

باب:دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2239

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ فُتِحَ لَهٗ مِنْكُمْ بَابُ الدُّعَاءِ فُتِحَتْ لَهٗ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ، وَمَا سُئِلَ اللّٰهُ شَيْئًا-يَعْنِيْ أَحَبَّ إِلَيْهِ-مِنْ أَنْ يُسْأَلَ الْعَافِيَةَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "من فتح له منكم باب الدعاء فتحت له أبواب الرحمة، وما سئل الله شيئا-يعني أحب إليه-من أن يسأل العافية". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تم میں سے جس کے لیے دعا کا دروازہ کھولا جائے تو اس کے لیے رحمت کے دروازے کھول دیئے جائیں گے ۱؎عافیت سے بڑھ کر کوئی کیسی چیز اللہ سے نہ مانگی گئی ہو جو اسے زیادہ پیاری ہو ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جسے ہر وقت ہر حال میں دعائیں مانگنے کی توفیق ملے تو یہ اس کی علامت ہے کہ اس کے لیے رب تعالٰی نے رحمت کے دروازے کھول دیئے ہیں،اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ دعا کی طرف دل کا راغب ہونا پھر دعا کے لیے اچھے الفاظ مل جانا رب تعالٰی ہی کے کرم سے ہے جب وہ کچھ دینا چاہتا ہے تو ہمیں مانگنے کی توفیق بخشتا ہے۔شعر
مری طلب بھی تمہارےکرم کاصدقہ ہے
قدم یہ اٹھتےنہیں ہیں اٹھائےجاتےہیں
۲
؎لمعات نے فرمایا کہ عافیت کے معنے سلامتی ہیں،یہاں کامل سلامتی مراد ہے،یعنی زندگی موت،قبر حشر کی تمام ظاہری باطنی چھوٹی بڑی آفتوں سے سلامتی و حفاظت۔ ظاہر بات ہے کہ یہ دعاء جامع الدعاء ہے، مرقات نے فرمایا کہ رب تعالٰی نے مصیبتیں پیدا ہی اس لیے کی ہیں تاکہ بندہ ان سے سلامتی کی دعائیں مانگے۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ عافیت اسی میں ہے جس میں رب راضی ہے،لہذا حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا خیبر میں زہر کھالینا فاروق اعظم کا مصلائے مصطفے پر خنجر کھا کر شہید ہونا،عثمان غنی کا قرآن پڑھتے ہوئے ذبح ہوجانا،حسین علیہ السلام کا بے آب دانہ مثل پروانہ،شمع مصطفوی پر نثار ہوجانا،عافیت ہی تھا۔لہذا رب تعالٰی سے وہ عافیت مانگو جو اس کے علم میں ہمارے لیے عافیت ہے نہ وہ جو ہمارے علم میں ہمارے لیے عافیت ہو۔ حضرت عباس نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مجھے کوئی بہترین دعا سکھائیے فرمایا چچا جان،اللہ سے دین و دنیا کی عافیت مانگو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2239