Main Icon

باب:دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2256

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: الْمَسْأَلَةُ أن تَرْفَعَ يَدَيْكَ حَذْوَ مَنْكِبَيْكَ أَوْ نَحْوَهُمَا، وَالِاسْتِغْفَارُ أَنْ تُشِيْرَ بِأُصْبُعٍ وَاحِدَةٍ، وَالِابْتِهَالُ أَنْ تَمُدَّ يَدَيْكَ جَمِيْعًا. وَفِيْ رِوَايَةٍ قَالَ: وَالِابْتِهَالُ هٰكَذَا، وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَجَعَلَ ظُهُوْرَهُمَا مِمَّا يَلِيْ وَجْهَهٗ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن عكرمة عن ابن عباس قال: المسألة أن ترفع يديك حذو منكبيك أو نحوهما، والاستغفار أن تشير بأصبع واحدة، والابتهال أن تمد يديك جميعا. وفي رواية قال: والابتهال هكذا، ورفع يديه وجعل ظهورهما مما يلي وجهه. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عکرمہ سے وہ حضرت ابن عباس سے راوی ہے کہ آپ نے فرمایا طریقہ دعایہ ہے کہ اپنے ہاتھ کندھوں کے مقابل یا اُن تک اٹھاؤ ۱؎اور طریقہ استغفار یہ ہے کہ ایک انگلی سے اشارہ کرو ۲؎اور عاجزی زاری طریقہ یہ ہے کہ دونوں ہاتھ خوب پھیلادو ۳؎اور ایک روایت میں فرمایا کہ زاری یوں ہے اور اپنے ہاتھ اٹھائے ہاتھوں کی پیٹھ چہرہ انورکے سامنے کی ۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی عام دعاؤں میں ہاتھ سینے تک اٹھانا سنت ہے کہ عادۃً بھکاری مانگتے وقت داتا کے سامنے یہاں تک ہی ہاتھ اٹھاتے اور پھیلاتے ہیں۔(لمعات)
۲
؎یعنی استغفار پڑھتے وقت اپنی کلمہ کی انگلی اپنے نفس کی طرف کرکے عرض کرے کہ یا اللہ یہ نفس امارہ مجرم ہے اور یہ بندہ گنہگار حاضر ہے،بخش دے۔
۲
؎ابتھالکے معنے ہیں اظہار عجز اور انتہائی خشوع،اسی سے ہے مباہلہ،یہاں اس سے مراد دفع بلا کی دعا ہے،جیسے استسقاء میں قحط کے دفع ہونے کی دعا مانگی جاتی ہے ایسی دعاؤں میں ہاتھ سر سے اوپر اٹھانے چائیں۔
۴
؎یعنی ہاتھ پورے اٹھا دیئے جائیں حتی کہ ہاتھوں کی پیٹھ چہرے کی طر ف ہوجائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2256