Main Icon

باب :اذان کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 641

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: ذَكَرُوا النَّارَ وَالنَّاقُوسَ، فَذَكَرُوا الْيَهُوْدَ وَالنَّصَارٰى، فَأُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الأَذَانَ وَأَنْ يُوتِرَ الإِقَامَةَ قَالَ إِسْمَاعِيلُ: فَذَكَرْتُهٗ لِأَيُّوْبَ فَقَالَ: إِلَّا الْإِقَامَةَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن أنس قال: ذكروا النار والناقوس، فذكروا اليهود والنصارى، فأمر بلال أن يشفع الأذان وأن يوتر الإقامة قال إسماعيل: فذكرته لأيوب فقال: إلا الإقامة. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ صحابہ نے آگ اور ناقوس کا ذکرکیا تو یہود اورعیسائیوں کا ذکرکیا ۱؎تب حضرت بلال کو حکم دیا گیا کہ اذان کے کلمات دو دوبارکہیں اورتکبیرکے ایک ایک بار۲؎اسماعیل کہتے ہیں کہ میں نے یہ ایوب سے ذکرکیا تو انہوں نے فرمایا کہ اقامت کے سواء۳؎(مسلم بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی بعدہجرت نمازکی اطلاع کا کوئی قاعدہ نہ تھا،اندازے سے مسلمان مسجدمیں جمع ہوجاتے اورجماعت ہوجاتی،جب مسلمان زیادہ ہوگئے تو صحابہ نے نماز کے اعلان کی تدابیرسوچیں،بعض نے رائے دی کہ نمازکے وقت آگ جلادی جایا کرے اس پراعتراض ہوا کہ یہ طریقہ یہود کاہے،بعض نے کہاکہ ناقوس(گھنٹا)بجائے جائے اس پراعتراض ہوا کہ یہ طریقہ عیسائیوں کاہے وہ اپنی عبادات کے وقت گھٹنے بجاتے ہیں،اسلامی اعلان ان سے ممتاز چاہیئے۔خیال رہے کہ بعض یہود اپنی عبادت کے اعلان کے لئے سنکھ یا بِگل بجاتے تھے،بعض لوگ آگ جلاتے تھے،یہاں ان کی ایک جماعت کا ذکرہے۔
۲
؎یہ حدیث ان لوگوں کی دلیل ہے جوتکبیرکے کلمے ایک ایک بارکہتے ہیں،جیسے شوافع اورموجودہ وہابی مگر ان کی یہ دلیل بہت ضعیف ہے کیونکہ یہاں اذان میں ترجیع کا ذکرنہیں حالانکہ یہ حضرات اذان ترجیع کے قائل ہیں،نیز اس حدیث سے لازم آتا ہے کہ تکبیر کے سارے کلمے ایک ایک بارہوں حالانکہ یہ حضرات "الله اكبر"چارباراور"قَدْ قَامَتِ الصَّلوٰۃ"دوبارکہتے ہیں۔ظاہرہے کہ یہاں اذان اورتکبیرسے شرعی اذان مرادنہیں بلکہ لغوی اعلان واطلاع مرادہے،یعنی حضور نے اس وقت یہ رائے دی کہ حضرت بلال محلوں میں جاکرباربارنماز کا اعلان کریں اورپھرجب نمازی مسجدمیں جمع ہوجائیں اورجماعت کھڑی ہونے لگے تو اہل مسجد کو جمع کرنے کے لئے ایک بارکہہ دیں کہ اٹھو جماعت تیارہے،ورنہ شرعی اذان توعبداللہ ابن زید وغیرہم صحابہ نے خواب میں دیکھی انہوں نے بارگاہ نبوی میں پیش کی تب سب سے پہلے فجرکے وقت دی گئی۔لہذا یہ حدیث ان بزرگوں کی دلیل ہرگز نہیں بن سکتی۔
۳
؎یعنی تکبیرکے سارے کلمات ایک بارکہے جائیں مگر"قَدْ قَامَتِ الصَّلوٰۃ"دوبار۔اب بھی یہ حدیث وہابیوں کی دلیل نہیں بن سکتی کیونکہ یہاں "اِلَّاالْاِقَامَۃَ"ایوب راوی کا اپنا قول ہے حضور کے الفاظ طیبہ نہیں،نیز "الله اکبر"چاربار اب بھی نہیں آیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 641