Main Icon

باب :اذان کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 648

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ قَالَ: أَمَرَنِيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَن أَذِّنْ فِيْ صَلَاةِ الْفَجْرِ" فَأَذَّنْتُ، فَأَرَادَ بِلَالٌ أَنْ يُقِيْمَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ أَخَا صُدَاءٍ قَدْ أَذَّنَ، وَمَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.

وعن زياد بن الحارث الصدائي قال: أمرني رسول الله -صلى الله عليه وسلم: أن أذن في صلاة الفجر" فأذنت، فأراد بلال أن يقيم، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن أخا صداء قد أذن، ومن أذن فهو يقيم". رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت زیاد ابن حارث صدائی سے ۱؎فرماتے ہیں مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجرمیں حکم دیا کہ اذان کہومیں نے اذان کہی پھر حضرت بلال نے تکبیرکہناچاہی تو حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ تمہارے صدائی بھائی نے اذان کہی ہے جو اذان کہے وہ ہی تکبیر کہے ۲؎(ترمذی،ابو داؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎صداءیمن کا ایک قبیلہ ہے اسی نسبت سے آپ کو صدائی کہتے ہیں،آپ کا شماربصرہ والوں میں ہے،آپ نے حضور سے بیعت کی ہے اورایک آدھ بارحضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اذان بھی کہی ہے۔
۲
؎یعنی تکبیراذان والے کا حق ہے۔خیال رہے کہ امام اعظم کا مذہب یہ ہے کہ مؤذن کی اجازت سے دوسرا شخص تکبیر کہہ سکتا ہے،نیز اگر پتہ ہوکہ مؤذن دوسرے کی تکبیر پر ناراض نہ ہوگا تب بھی جائز ہے کیونکہ روایات میں ہے کہ بارہا حضرت بلال اذان دیتے اور حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم تکبیر کہتے،کبھی اس کے برعکس بھی ہوتا،لہذا یہ حدیث اس موقعہ کے لئے ہے جب مؤذن ناراض ہو، دونوں حدیثیں درست ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 648