Main Icon

باب :اذان کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 651

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- لِصَلَاةِ الصُّبْحِ، فَكَانَ لَا يَمُرُّ بِرَجُلٍ إِلَّا نَادَاهُ بِالصَّلَاةِ، أَوْ حَرَّكَهُ بِرِجْلِهٖ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن أبي بكرة قال: خرجت مع النبي -صلى الله عليه وسلم- لصلاة الصبح، فكان لا يمر برجل إلا ناداه بالصلاة، أو حركه برجله. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے ۱؎فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجرکی نمازکے لئےنکلا تو آپ جس سوتے ہوئے شخص پر گزرتے تھے اسے نماز کے لئےآواز دیتے یا اپنے پاؤں شریف سے ہلاتے ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام نقیع ابن حارث ہے،کنیت ابوبکرہ،قبیلۂ بنی ثقیف سے ہیں،مشہور صحابی ہیں۔
۲
؎یعنی راستہ میں جو سوتے ہوئے لوگ ملتے انہیں آواز سے یا اپنے پاؤں شریف سے نماز کے لئے جگاتے تھے۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ اذا ن کے بعدکسی کو خصوصی طورپرنمازکی اطلاع دیناجائز ہے،گویا یہ خصوصی تثویب ہے۔دوسرے یہ کہ نماز کا نام لےکرجگانا درست ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ جگا کرنماز کا نام لے پہلے نہ لے غلط ہے۔تیسرے یہ کہ اپنے چھوٹے کو اپنے پاؤں سے حرکت دے کرجگانا درست ہے،خوش نصیب ہیں وہ جنہیں حضورکی ٹھوکرنصیب ہوئی۔عخوابیدہ کوٹھوکرسے جگاتے جاتے۔
صوفیاء کاتجربہ یہ ہے کہ حضوراپنے خاص غلاموں کو اب بھی ٹھوکرسے جگاتے ہیں جو انہیں محسوس بھی ہوتی ہے،خدا نصیب کرے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 651