Main Icon

باب :اذان کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 652

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مَالِكٍ بَلَغَهٗ: أَنَّ الْمُؤَذِّنَ جَاءَ عُمَرَ يُؤْذِنُهٗ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ فَوَجَدَهٗ نَائِمًا، فَقَالَ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، فَأَمَرَهٗ عُمَرُ أَنْ يَّجْعَلَهَا فِيْ نِدَاءِ الصُّبْح. رَوَاهُ فِيْ "الْمُوَطَّأِ".

وعن مالك بلغه: أن المؤذن جاء عمر يؤذنه لصلاة الصبح فوجده نائما، فقال: الصلاة خير من النوم، فأمره عمر أن يجعلها في نداء الصبح. رواه في "الموطأ".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مالک سے انہیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ عمر فاروق کی خدمت میں مؤذن نمازفجرکی اطلاع دینے حاضر ہوئے ۱؎انہیں سوتاپایا بولے نماز نیندسے بہتر ہے انہیں عمر فاروق نے حکم دیا یہ لفظ فجرکی اذان میں داخل کرلیں ۲؎(مؤطا)

شرح حدیث

۱∞؎غالبًا یہ واقعہ خلافت فاروقی کے زمانہ کاہے اوریہ مؤذن حضرت بلال نہیں کوئی اور بزرگ ہیں کیونکہ حضرت بلال حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعددمشق چلے گئے تھے۔عہدفاروقی میں وہاں ہی آپ کی وفات ہوئی۔اس سے معلوم ہوا کہ سلطان اسلام قاضی،عالم دین وغیرہم کو مؤذن خصوصی طور پرنمازکی اطلاع دے سکتا ہے عوام کے لیےممنوع ہے انہیں اذان ہی کافی ہے۔
۲
؎یعنی یہ کلمہ اذان صبح کا جزو ہے اسے صرف اذان میں ہی استعمال کیا کریں اس کے علاوہ نہیں،دوسرے اوقات میں اورلفظ سے بیدارکریں یا اطلاع دیں،لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ یہ کلمہ تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے اذان فجرمیں داخل تھا آج داخل کرنے کے کیا معنی،اسکی اوربھی تفسیر یں ہیں مگر یہ تفسیربہتر۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 652