Main Icon

باب:کشمش وغیرہ کے شربتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4286

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَقَدْ سَقَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحِي هٰذَا الشَّرَابَ كُلَّهُ: الْعَسَلَ والنَّبِيْذَ وَالْمَاءَ وَاللَّبَنَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

عن أنس قال: لقد سقيت رسول الله صلى الله عليه وسلم بقدحي هذا الشراب كله: العسل والنبيذ والماء واللبن. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اس پیالہ سے ہر قسم کے شربت پلائے شہد،نبیذ اورپانی اور دودھ ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎ایک لکڑی کا پیالہ حضرت انس کے ہاتھ میں تھا ،آپ نے لوگوں کو دکھاکر فرمایا کہ اس پیالہ سے میں نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت سی قسم کے شربت اور دودھ پلایا ہے یعنی یہ پیالہ بڑا ہی متبرک ہے کہ اسے حضور انور کے ہاتھ اور لب بارہا لگے ہیں،آپ نے بصرہ میں لوگوں کو اس پیالہ کی زیارت کراکے یہ فرمایا،یہ پیالہ حضرت انس کی اولاد کے پاس بطورتبرک رہا، پھر نضر ابن انس کی اولاد سے آٹھ لاکھ روپیہ کے عوض خریدا گیا۔(مرقات)یہاں اشعۃ اللمعات میں ہے کہ اما م بخاری نے اس پیالہ کی بصرہ میں زیارت کی اور اس سے پانی پیا۔معلوم ہوا کہ حضرات صحابہ حضور کے استعمالی برتنوں کو برکت کے لیے اپنے پاس رکھتے تھے اور لوگوں کو زیارت کراتے تھے،آنکھ والے ان چیزوں کی قدرجانتے ہیں۔ابھی گزر گیا کہ حضرت کبشہ نے مشکیزے کا وہ چمڑا کاٹ کر رکھ لیا جس سے حضور نے پانی پیا تھا۔مثنوی میں ہے کہ حضرت جابر کے گھر وہ کپڑے کا دسترخوان تھا جس سے حضور نے ہاتھ و منہ پونچھ لیے تھے جب وہ میلا ہوجاتا تھا تو اسے آگ میں ڈال دیتے میل جل جاتا کپڑا محفوظ رہتا تھا۔مولانا فرماتے ہیں۔شعر
قوم گفتند اے صحابی عزیز چوں نہ سوزید و منقی گشت نیز
گفت روزے مصطفی دست ودہاں بس بما لید اندریں دستار خواں
اے دل ترسندہ ازنار و عذاب باچنیں دست و دہاں کن انتساب

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4286