Main Icon

باب:کشمش وغیرہ کے شربتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4292

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي مَالِكٍ اَلْأَشْعَرِيِّ أَنَّهٗ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَيَشْرَبَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِيْ اَلْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اِسْمِهَا» . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

عن أبي مالك الأشعري أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «ليشربن ناس من أمتي الخمر يسمونها بغير اسمها» . رواه أبوداود وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو مالک اشعری سے ۱؎انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ میری امت کے کچھ لوگ شراب پئیں گے اور اس کا نام کچھ دوسرا رکھ لیں گے ۲؎(ابوداؤد ، ابن ماجہ)۳؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ کے حالات پہلےگزرچکے کہ آپ کا نام کعب ابن عاصم ہے،کنیت ابو مالک یا ابو عامر ہے،ابو مالک زیادہ مشہور ہے،آپ صحابی ہیں،خلافت فاروقی میں وفات پائی۔
۲
؎یہ غیبی خبر ہے جو ہوبہو درست ہوئی یعنی آخر ی زمانہ میں لوگ شراب کے نام بدل دیں گے اور اسے حلال سمجھ کر پئیں گے حالانکہ وہ نشہ والی ہوگی مثلًا انگور کا پانی یا کھجور کا عرق کہیں گے یا اسے وسکی کہہ کر پئیں گے۔معلوم ہوا کہ نام کا اعتبار نہیں نشہ کا اعتبار ہے۔آج بعض لوگ شراب کو برانڈی یا وسکی کہہ کر پیتے ہیں حالانکہ حرام ہوتی ہے۔شراب کا نام قہوہ بھی ہے مگر مروجہ قہوہ یعنی بے دودھ کی چائے بالکل حلال ہے کہ اس میں نشہ نہیں لہذا حلال ہے،غرضیکہ نام کا اعتبار نہیں کام کا اعتبار ہے۔(مرقات)
۳
؎یہ حدیث احمد،ابن حبان،طبرانی،بیہقی نے بھی روایت فرمائی ان کی روایت میں یہ زیادتی ہے کہ ان میں باجے رنڈیوں کے گانے بہت بڑ ھ جائیں گے،اللہ انہیں زمین میں دھنسادے گا اورانکی صورتیں بندروں سؤروں میں تبدیل فرمادے گا یہ آخر زمانہ میں ہوگا۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4292