Main Icon

باب:کشمش وغیرہ کے شربتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4288

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْبَذُ لَهٗ أَوَّلَ اللَّيْلِ فَيَشْرَبُهٗ إِذَا أَصْبَحَ يَوْمَهٗ ذٰلِكَ وَاللَّيْلَةَ الَّتِي تَجِيءُ وَالْغَدَ وَاللَّيْلَةَ الْأُخْرٰى وَالْغَدَ إِلَى العَصْرِ فَإِنْ بَقِيَ شَيْءٌ سَقَاهُ الْخَادِمَ أَوْ أَمَرَ بهِ فَصُبَّ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن ابن عباس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينبذ له أول الليل فيشربه إذا أصبح يومه ذلك والليلة التي تجيء والغد والليلة الأخرى والغد إلى العصر فإن بقي شيء سقاه الخادم أو أمر به فصب. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے شروع رات میں نبیذ بنایا جاتا اسے حضور پیتے جب صبح ہوتی اسی دن اور رات جو آتی اور کل اور دوسری رات اور کل عصر تک ۱؎پھر اگرکچھ بچ رہتا اسے خادم کو پلا دیتے ۲؎یا حکم دیتے تو گرا دیا جاتا ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ایک دن کا بنایا ہوا نبیذ حضور دو روز تک پیتے رہتے تھے کہ اس قدر ٹھہرنے سے اس میں نشہ پیدا ہونے کا احتمال نہ تھا۔
۲
؎اس لیے کہ اس کے بعد تل چھٹ رہ جاتا تھا صاف شربت نہ رہتا تھا نشہ ہرگز نہیں پیدا ہوتا تھا،اگر نشہ پیدا ہوتا تو خادم کو ہرگز نہ پلاتے کہ نشہ پلانا بھی حرام ہے۔(مرقات،اشعہ)
۳
؎گرادینا اس صورت میں ہوتا تھا جب کہ اس میں نشہ پیدا ہوجاتا۔اس سے معلوم ہوا کہ اعلٰی کھانا اگر آقا کھائے اور نیچے کا بچا ہوا کھانا خادم کو کھلائے تو جائز ہے۔وہ جو حدیث شریف میں آتا ہے کہ خادم کو ساتھ کھلاؤ یہ بیان استحباب کے لیے ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں،یہ بھی معلوم ہوا کہ نشہ آور یا سڑی بسی چیز کسی کو نہ کھلائی جائے بلکہ پھینک دی جائے۔ خیال رہے کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ کی روایت کہ صبح کا نبیذ شام تک ختم فرمادیتے تھے الخ،گرمیوں کے موسم کے متعلق ہے اور حضرت ابن عباس کی یہ حدیث دو دن تک پینے کی سردی کے موسم کے متعلق ہے۔گرمیوں میں نبیذ میں جلد جوش آجاتا ہے اور جلد نشہ آور ہوجاتا ہے سردی میں نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4288