Main Icon

باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1136

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا قَالَ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» . لَمْ يَحْنِ أَحَدٌ مِنَّا ظَهْرَهٗ حَتّٰى يَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَبْهَتَهٗ عَلَی الأَرْضِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن البراء بن عازب قال: كنا نصلي خلف النبي صلى الله عليه وسلم فإذا قال: «سمع الله لمن حمده» . لم يحن أحد منا ظهره حتى يضع النبي صلی الله عليه وسلم جبهته علی الأرض(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی الله علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے جب آپسمع الله لمن حمدہکہتے تو ہم میں سے کوئی اس وقت تک پیٹھ نہ جھکاتا جب تک نبی صلی الله علیہ وسلم اپنی پیشانی مبارک زمین پر رکھتے ۲؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ مشہور صحابی ہیں،غزوہ خندق میں حضور صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ رہے،اس سے پہلے غزوات میں لڑکپن کی وجہ سے اسلامی فوج میں نہ لیے گئے،جنگ جمل،صفین اور نہروان،میں امیر المؤمنین علی مرتضی کے ساتھ رہے۔
۲
؎یعنی حضور صلی الله علیہ وسلم کے سجدہ شروع کردینے پر ہم قومہ سے جھکنا شروع کرتے تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ مقتدی کا امام اسے اتنا پیچھے رہنا سنت ہے اورامام کے ساتھ رکن نماز میں ملنا واجب حتی کہ اگر امام رکوع سے سر اٹھائے اور مقتدی ابھی تک رکوع کی تین تسبیح نہیں پڑھ سکا تو تسبیحیں چھوڑ کر امام کے ساتھ کھڑا ہوجائے اور اگر مقتدی رکوع میں امام سے پہلے اٹھ کھڑا ہوا تو پھر لوٹ جائے یہ اس کا ایک ہی رکوع ہوگا نہ کہ دو۔(مرقاۃ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1136