Main Icon

باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1137

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: صَلّٰى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمَّا قَضٰى صَلَاتَهٗ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهٖ فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي إِمَامُكُمْ فَلَا تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ وَلَا بِالسُّجُودِ وَلَا بِالْقِيَامِ وَلَا بِالِانْصِرَافِ: فَإِنِّي أَرَاكُمْ أَمَامِي وَمِنْ خَلْفِي ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أنس قال: صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم فلما قضى صلاته أقبل علينا بوجهه فقال: أيها الناس إني إمامكم فلا تسبقوني بالركوع ولا بالسجود ولا بالقيام ولا بالانصراف: فإني أراكم أمامي ومن خلفي ". رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے نماز پڑھائی جب نماز پوری ہوئی تو ہم پر اپنے چہرے سے متوجہ ہوئے فرمایا اے لوگو ! میں تمہارا امام ہوں لہذا رکوع سجدے قیام اور فراغت میں مجھے سے آگے نہ بڑھو ۱؎کیونکہ میں تم کو اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں اور پیچھے سےبھی ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آگے بڑھنے کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ امام سے پہلے رکوع میں پہنچے اور امام کے رکوع میں آنے سے پہلے اٹھ جائے اس صورت میں اس کا رکوع نہیں ہوا کیونکہ امام کے ساتھ شرکت نہ ہوسکی۔دوسرے یہ کہ امام سے پہلے رکوع میں گیا مگر بعد میں امام بھی ا سے مل گیا یہ مکروہ ہے لیکن رکوع صحیح ہوگا کیونکہ امام کے ساتھ شرکت ہوگئی۔
۲
؎یہاں مرقاۃ نے فرمایا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم میں بشریت بھی ہے اور ملکیت بھی(فرشتہ ہونا) آپ پر کبھی بشریت کے حالات ظاہر ہوتے تھے،کبھی ملکیت کے،ہرطرف سے دیکھنا فرشتہ کی صفت ہے جو بعض اوقات خصوصًا نماز میں آپ سے ظاہر ہوتی ہے۔لطف یہ ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم فرماتے ہیں احسان یہ ہے کہ نماز میں بندہ سمجھے کہ میں رب کو دیکھ رہا ہوں اگر یہ نہ سمجھ سکے تو کم از کم یہ سمجھے کہ رب مجھے دیکھ رہا ہے اور اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نمازی یہ سمجھ کر نماز پڑھے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم مجھے دیکھ رہے ہیں۔نتیجہ یہ نکلا کہ کمال احسان یہ ہے کہ نمازی یہ سمجھ کر نماز پڑھے کہ رب بھی مجھے دیکھ رہا ہے اور جناب مصطفی صلی الله علیہ وسلم بھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1137