Main Icon

باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1139

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ عَنْهُ فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ فَصَلّٰى صَلَاةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهُوَ قَاعِدٌ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهٗ قُعُودًا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهٖ فَإِذَا صَلّٰى قَائِمًا فَصَّلُّوْا قِيَامًا فَإِذا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَإِذَا صَلّٰى قَائِمًا فَصَّلُّوْا قِيَامًا وَإِذَا صَلّٰى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ» قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: قَوْلُهُ: «إِذَا صَلّٰى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا» هُوَ فِي مَرَضِهِ الْقَدِيمِ ثُمَّ صَلّٰى بَعْدَ ذٰلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا وَالنَّاسُ خَلْفَهٗ قِيَامٌ لَمْ يَأْمُرْهُمْ بِالْقُعُودِ وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالْآخِرِ فَالْآخِرِ مِنْ فِعْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . هٰذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ. وَاتَّفَقَ مُسْلِمٌ إِلٰى أَجْمَعُونَ. وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ: «فَلَا تَخْتَلِفُوْا عَلَيْهِ وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوْا»

وعن أنس: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ركب فرسا فصرع عنه فجحش شقه الأيمن فصلى صلاة من الصلوات وهو قاعد فصلينا وراءه قعودا فلما انصرف قال: «إنما جعل الإمام ليؤتم به فإذا صلى قائما فصلوا قياما فإذا ركع فاركعوا وإذا رفع فارفعوا وإذا قال سمع الله لمن حمده فقولوا ربنا ولك الحمد وإذا صلى قائما فصلوا قياما وإذا صلى جالسا فصلوا جلوسا أجمعون» قال الحميدي: قوله: «إذا صلى جالسا فصلوا جلوسا» هو في مرضه القديم ثم صلى بعد ذلك النبي صلى الله عليه وسلم جالسا والناس خلفه قيام لم يأمرهم بالقعود وإنما يؤخذ بالآخر فالآخر من فعل النبي صلى الله عليه وسلم . هذا لفظ البخاري. واتفق مسلم إلى أجمعون. وزاد في رواية: «فلا تختلفوا عليه وإذا سجد فاسجدوا»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم گھوڑے پر سوار ہوئے تو اس سے گر گئے تو آپ کی دائیں کروٹ چھل گئی ۱؎پھر آپ نے کوئی نماز بیٹھ کر پڑھی تو ہم نے بھی آپ کے پیچھے بیٹھ کر ہی پڑھی جب فارغ ہوئے تو فرمایا امام اس لیئے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے تو جب وہ نماز کھڑے ہو کر پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو جب رکوع کرے تو تم رکوع کرو جب اٹھائے تو تم اٹھاؤ جب کہےسمع الله لمن حمدہتو تم کہوربنا لك الحمدجب وہ بیٹھ کر پڑھے تو تم سب بیٹھ کر پڑھو ۲؎حمیدی فرماتے ہیں کہ یہ حکم کہ وہ بیٹھ کر پڑھے تم بیٹھ کر پڑھو آپ کے پرانے مرض میں تھا پھر اس کے بعد نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے نماز بیٹھ کر پڑھی اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے تھے اور انہیں بیٹھنے کا حکم نہ دیا اور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا آخری عمل لیا جاتا ہے اور آخری یہ ہے ۳؎یہ بخاری کے لفظ ہیں مسلم سےاجمعونتک متفق ہیں اور ایک روایت میں یہ زیادہ ہے کہ امام کی مخالفت نہ کرو جب سجدے کرے سجدہ کرو تم۔

شرح حدیث

۱∞؎شیخ نے فرمایا کہ یہاں حضور کا گھوڑے سے گر جانا اور کروٹ چھیل جانا بحکم بشریت ہے شیخ کا مطلب یہ کہ معراج میں برق رفتار براق پر سوار ہونا اور آسمانوں کی سیر کرنا بہ تقاضائے ملکیت تھا۔
۲
؎امام احمد ابن حنبل فرماتے ہیں کہ اگر امام قبیلہ کا امام ہو اور اس کی بیماری بھی عارضی ہو مرض وفات نہ ہو اور نماز بیٹھ کر پڑھے تو مقتدی کو بھی بیٹھنا پڑے گا بلکہ ایسا امام اگر کھڑے ہو کر نماز شروع کرے اور اسے درمیان میں بیٹھنا پڑ جائے تو مقتدی بھی بیٹھ جائیں گے ان کا ماخذ یہ حدیث ہے،باقی تمام آئمہ اس کے خلاف ہیں وہ فرماتے ہیں یہ حدیث منسوخ ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے۔(لمعات)
۳
؎یہاں یہ اعتراض نہیں پڑ سکتا کہ وہ حضور کا قول تھا یہ فعل ہے اور قول فعل سے منسوخ نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ کھڑا ہونا صحابہ کا فعل تھا اور حضور صلی الله علیہ وسلم کا منع نہ فرمانا اس کی تائید ہے کیونکہ فعل قول کا ناسخ وہاں ہوتا جہاں فعل میں حضور صلی الله علیہ وسلم کی خصوصیت کا احتمال ہو یہاں یہ بات نہیں،دیکھو نبی صلی الله علیہ وسلم نے حجام کی اجرت کو خبیث فرمایا اور خود ابوطیبہ سے فصد کھلوا کر انہیں اجرت دی آپ کا یہ فعل اس قول کا ناسخ ہے کیونکہ یہاں دینا حضور صلی الله علیہ وسلم کا فعل ہے لینا حضرت ابو طیبہ کا لہذا یہ آپ کے خصائص میں سے نہ رہا۔خیال رہے کہ یہ حمیدی امام بخاری کے شیخ ہیں،وہ حمیدی نہیں جو جامع صحیحین ہیں،دھوکا نہ کھانا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1139