Main Icon

باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1140

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَة رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا ثَقَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُه بِالصَّلَاة فَقَالَ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ» فَصَلّٰى أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الْأَيَّامَ ثُمَّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ فِي نَفْسِهٖ خِفَّةً فَقَامَ يُهَادٰى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ حَتّٰى دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمَّا سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ حِسَّه ذَهَبَ یَتَأَخَّرُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يتَأَخَّر فجَاء حَتّٰى جَلَسَ عَنْ يَسَارِ أَبِيْ بَكْرٍ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي قَائِمًا وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَاعِدًا يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ یَقْتَدُوْنَ بِصَلَاة أَبِيْ بَكْرٍ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا : يُسْمِعُ أَبُو بَكْرٍ النَّاسَ التَّكْبِيرَ

وعن عائشة رضي الله عنها قالت: لما ثقل رسول الله صلى الله عليه وسلم جاء بلال يؤذنه بالصلاة فقال: «مروا أبا بكر أن يصلي بالناس» فصلى أبو بكر تلك الأيام ثم أن النبي صلى الله عليه وسلم وجد في نفسه خفة فقام يهادى بين رجلين ورجلاه تخطان في الأرض حتى دخل المسجد فلما سمع أبو بكر حسه ذهب یتأخر فأومأ إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم أن لا يتأخر فجاء حتى جلس عن يسار أبي بكر فكان أبو بكر يصلي قائما وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي قاعدا يقتدي أبو بكر بصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم والناس یقتدون بصلاة أبي بكر(متفق عليه)وفي رواية لهما : يسمع أبو بكر الناس التكبير

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ رضی الله تعالٰی عنہا سے فرماتی ہیں جب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سخت بیمار ہوئے تو حضرت بلال آپ کو نماز کی اطلاع دینے کے لیئے آئے ۱؎فرمایا کہ ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں چنانچہ اس زمانے میں ابوبکر نماز پڑھاتے ۲؎پھر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے اپنی طبیعت میں کچھ ہلکا پن پایا تو کھڑے ہوئے کہ دو شخصوں کے درمیان لے جائے جاتے تھے اور آپ کے قدم زمین پر گھسٹتے تھے۳؎حتی کہ آپ مسجد میں تشریف لائے جب صدیق اکبر نے آپ کی آہٹ محسوس کی تو آپ پیچھے ہٹنے لگےحضور صلی الله علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ نہ ہٹو۴؎پس آپ تشریف لائے اور حضرت صدیق کی بائیں بیٹھ گئے ۵؎کہ صدیق کھڑے ہوکر نماز پڑھ رہے تھے اور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم بیٹھ کر اور صدیق اکبر حضور صلی الله علیہ وسلم کی نماز کی اقتدا کررہے تھے اور لوگ صدیق اکبر کی نماز کی ۶؎(مسلم،بخاری) اور ان دونوں کی دوسری روایت میں ہے کہ صدیق اکبر لوگوں کو تکبیر سنا رہے تھے۔

شرح حدیث

۱∞؎فقہاء فرماتے ہیں کہ اذان کے بعد کسی خاص شخص کو دروازے پر جا کر نماز کی اطلاع دینا ممنوع ہے سوائے سلطان اسلام اور اس عالم دین کے جو ہر وقت دینی مشاغل میں رہتا ہے اس مسئلے کا ماخذ یہ حدیث ہے۔
۲
؎آپ نے ۱۷ نمازیں پڑھائیں ہیں۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ بعد انبیاءافضل الخلقابوبکر صدیق رضی الله عنہ ہیں کیونکہ امام افضل ہی کو بنایا جاتا ہے۔دوسرے یہ کہ بعد رسول الله صلی الله علیہ وسلم خلافت کے آپ ہی مستحق ہیں کیونکہ،یہ امامت اصغریٰ امامت کبریٰ کی دلیل ہے گویا حضور صلی الله علیہ وسلم نے عملی طور پر آپ کو اپنا خلیفہ بنادیا خلافت صرف قول سے ہی نہیں ہوا کرتی اسی لیئے تمام صحابہ خصوصًا حضرت علی مرتضیٰ نے فرمایا کہ صدیق کو رسول الله نے ہمارے دین کا امام بنادیا تو ہم نے انہیں اسی دنیا کا امام بنالیا۔تیسرے یہ کہ امامت کا مستحق پہلے عالم ہے پھر قاری۔چوتھے یہ کہ ابوبکر صدیق تمام صحابہ میں بڑے عالم ہیں۔(ازمرقاۃ و مدارج النبوۃ)
۳
؎وہ دو شخص حضرت عباس و علی مرتضی ہیں یا حضر ت عباس و اسامہ یا حضرت عباس و فضل ابن عباس۔(مرقات)اور ہوسکتا ہے کہ ایک جانب حضرت عباس اول سے آخر تک رہے ہوں اور دوسری جانب باری باری سے یہ حضرات۔شیخ نے فرمایا کہ انبیاء کرام پر یہ بیماریاں اور کمزوریاں بشریت کے عوارض میں سے ہیں۔
۴
؎اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ ان نمازوں میں تمام صحابہ خصوصًا صدیق اکبر کا منہ کعبہ کی طرف تھا اور دل حضور صلی الله علیہ وسلم کی طرف،زبان قرآن میں مصروف تھی اور کان جناب مصطفے کی طرف اس سے ان کی نماز زیادہ کامل ہوئی ورنہ نماز کے خشوع میں کسی کی آہٹ کیسے سنی جاسکتی ہے۔دوسرے یہ کہ صدیق اکبر عین نماز میں خصوصًا حضور صلی الله علیہ وسلم کا ادب کرتے تھے کہ ادبًا پیچھے ہٹ کر مقتدی بننے لگے یہ ادب شرک نہ تھا بلکہ کمال توحید۔تیسرے یہ کہ صدیق اکبر نماز کی حالت میں حضور صلی الله علیہ وسلم کے احکام بلکہ اشاروں کی اطاعت کرتے تھے کہ اشارہ پا کر کھڑے رہے کیوں نہ ہو کہ نماز بھی انہیں کی اطاعت ہے۔
۵
؎امام بن کر نہ کہ مقتدی ہو کر ورنہ داہنی جانب بیٹھتے۔معلوم ہوا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی آمد سے تمام کی امامتیں منسوخ ہوجاتی ہیں کیوں نہ ہو کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی آمد پر تو انبیاء کی امامت کبریٰ یعنی نبوت منسوخ ہوگئی۔
۶
؎اس طرح کہ ابوبکر صدیق لوگوں کو حضور صلی الله علیہ وسلم کی تکبیریں پہنچاتے تھے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس نماز کے دو امام تھے کیونکہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی آوا ز بوجہ ضعف دور تک نہ پہنچ سکتی تھی۔فقہاء فرماتے ہیں اگر امام بہت کمزور ہویا پیچھے مجمع زیادہ ہو تو مؤذن یا دیگر مقتدی امام کی تکبیریں لوگوں تک پہنچائیں اس کاماخذ یہ حدیث ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1140