Main Icon

باب:قسم لینے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3531

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَسَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّهُمَا حَدَّثَا أَنَّ عَبْدَ اللّٰهِ بْنَ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ أَتَيَا خَيْبَرَ،فَتَفَرَّقَا فِي النَّخْلِ، فَقُتِلَ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ سَهْلٍ، فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَحُوَيِّصَةُ وَمُحَيِّصَةُ ابْنَا مَسْعُودٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَكَلَّمُوا فِي أَمْرِ صَاحِبِهِمْ، فَبَدَأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَكَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَبِّرِ الْكُبْرَ، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعَدٍ: يَعْنِي لِيَلِيَ الْكَلَامَ الأَكْبَرُ، فَتَكَلَّمُوا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "اسْتَحِقُّوا قَتِيلَكُمْ -أَوْ قَالَ: صَاحِبَكُمْ- بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْكُمْ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أَمْرٌ لَمْ نَرَهُ قَالَ: "فَتُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ فِي أَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْهُمْ؟ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ قَوْمٌ كفَّارٌ،فَفَدَاهُمْ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِهِ وَفِي رِوَايَةٍ: "تَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا وَتَسْتَحِقُّونَ قَاتِلَكُمْ -أَوْ صَاحِبَكُمْ-" فَوَدَاهُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ بِمِئَةِ ناقَةٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وَهَذَا الْبَابُ خَالٍ عِنَ الْفَصْلِ الثَّانِي.

عن رافع بن خديج وسهل بن أبي حثمة أنهما حدثا أن عبد الله بن سهل ومحيصة بن مسعود أتيا خيبر،فتفرقا في النخل، فقتل عبد الله بن سهل، فجاء عبد الرحمن بن سهل وحويصة ومحيصة ابنا مسعود إلى النبي صلى الله عليه وسلم ، فتكلموا في أمر صاحبهم، فبدأ عبد الرحمن، وكان أصغر القوم، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم : كبر الكبر، قال يحيى بن سعد: يعني ليلي الكلام الأكبر، فتكلموا فقال النبي صلى الله عليه وسلم : "استحقوا قتيلكم -أو قال: صاحبكم- بأيمان خمسين منكم" قالوا: يا رسول الله! أمر لم نره قال: "فتبرئكم يهود في أيمان خمسين منهم؟ " قالوا: يا رسول الله قوم كفار،ففداهم رسول الله صلى الله عليه وسلم من قبله وفي رواية: "تحلفون خمسين يمينا وتستحقون قاتلكم -أو صاحبكم-" فوداه رسول الله صلى الله عليه وسلم من عنده بمئة ناقة. متفق عليه.
وهذا الباب خال عن الفصل الثاني.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حصرت رافع ابن خدیج ۱؎اور سہل ابن حثمہ سے ۲؎انہوں نے خبر دی کہ حضرت عبداابن سہل ۳؎اور محیصہ ابن مسعود دونوں خیبر پہنچے تو وہ دونوں باغات میں متفرق ہو گئے ۴؎عبداابن سہل قتل کردیئے گئے تو عبدالرحمن بن سہل اور خویصہ اورمحیصہ یعنی مسعود کے بیٹے ۵؎نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اپنے ساتھی کے معاملہ میں انہوں نے گفتگو کی۶؎تو عبدالرحمن نے ابتداء کی اور تھے یہ ساری قوم میں چھوٹے تو ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا بڑے کا بڑا پن رکھو ۷؎یحیی ابن سعید فرماتے ہیں مقصد یہ تھا کہ بڑا گفتگو کرے ۸؎چنانچہ انہوں نے بات چیت کی ۹؎تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ اپنے آپس کی پچاس قسموں سے اپنے مقتول کے یا فرمایا اپنے ساتھی کے مستحق ہوسکتے ہو۱۰؎انہوں نے عرض کیا یارسول اصلی اللہ علیہ و سلم یہ ایسا واقعہ ہے جسے ہم نے دیکھا نہیں ۱۱؎تو فرمایا پھر یہود اپنی پچاس پچاس قسموں کے ذریعہ تم سے چھٹکارا حاصل کرلیں گے ۱۲؎عرض کیا یارسول اصلی اللہ علیہ و سلم وہ کافر قوم ہے ۱۳؎تو ان کو رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی طرف سے فدیہ دیا ۱۴؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ تم لوگ پچاس قسمیں کھا لو اپنے قاتل کے حق دار ہوجاؤ یا ساتھی کے ۱۵؎پھر اس کا فدیہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے پاس سے سو اونٹنیاں دیں ۱۶؎(مسلم،بخاری)
اور یہ باب دوسری فصل سے خالی ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ کی کنیت ابو عبداہے،حارثی انصاری ہیں،بدر میں بہت چھوٹے تھے اس لیے شریک نہ ہوئے،پھر غزوہ احد اور باقی غزوات میں شریک ہوئے،غزوہ بدر میں آپ کو تیر لگا تو رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن میں تیرے اس زخم کی گواہی دوں گا،اس وقت زخم اچھا ہوگیا،پھر یہ ہی زخم عبدالملک ابن مروان کے زمانہ میں جاری ہوگیا،اس سے آپ کی وفات ہوئی، ۷۳ھ؁ ∞ میں چھیاسی سال عمر پائی مشہور صحابی ہیں۔(مرقاۃ)
۲
؎آپ بہت کم عمر صحابی ہیں، ۳ھ؁ ∞ میں ولادت ہے۔
۳
؎آپ بھی انصاری حارثی ہیں،عبدلرحمن ابن سہل کے بھائی اور محیصہ کے بھتیجے ہیں،آپ ہی خیبر میں قتل کیے گئے۔
۴
؎سیروتفریح کے لیے خیبر گئے اور وہاں باغوں میں متفرق ہوگئے ایک کسی باغ میں چلا دوسرا کسی اور باغ میں۔فقیر نے خیبر کی سیر اور زیارات کی ہیں،وہاں اب بھی سات قلعہ ہیں اورباغات تو بہت ہی ہیں اہل مدینہ وہاں تفریح کے لیے جاتے ہیں،مدینہ طیبہ سے تبوک و عمان کے راستہ پر ایک سو ساٹھ کیلومیٹر ہے،اب وہاں تک بلکہ تبوک تک سڑک پختہ ہے۔
۵
؎عبدالرحمان ابن سہل تو مقتول عبداابن سہل کے بھائی تھے اور حویصہ و محیصہ مقتول کے چچا زاد تھے۔
۶
؎یعنی گفتگو کرنا چاہیے جیسا کہ اگلے مضمون سے معلوم ہورہا ہے۔
۷
؎یعنی تم میں جو سب سے بڑے ہیں انہیں پہلے گفتگو کرنے دو پھر تم کچھ کہنا،بڑے حویصہ تھے۔(مرقات) اس سے معلوم ہوا کہ بڑوں کا ادب ہر حال میں چاہیے اور عمر کی بڑائی بھی معتبر ہے،بڑائی بہت سی قسم کی ہوتی ہے:رشتہ کی بڑائی،علم کی بڑائی،تقویٰ کی بڑائی،عمر کی بڑائی،یہاں عمر کی بڑائی مراد ہے۔
۸
؎اس سے معلوم ہوا کہ حدودوقصاص کے مقدمہ میں کسی کو ذلیل کرنا جائز ہے،یہ بھی معلوم ہوا کہ مؤکل کی موجودگی میں بھی وکیل کام و کلام کرسکتا ہےکیونکہ عبدالرحمن ابن سہل تو اس مقتول کے حقیقی بھائی تھے یہ ہی ولی مقتول تھے،یہ ہی مدعی تھے،حویصہ اور محیصہ چچازاد تھے یہ ولی مقتول نہ تھے بلکہ اب مدعی کے وکیل ہوئے۔
۹
؎اس طرح کہ بڑے نے بات چیت کی مقدمہ پیش کیا چونکہ وکیل کا کام مؤکل کا کام ہوتا ہے اس لیے اس گفتگو کو سب کی طرف منسوب کیا گیا۔
۱۰
؎یعنی تم میں سے پچاس آدمی قسم کھالیں کہ فلاں شخص نے قتل کیا ہے تو تم اس سے بدلہ لے سکتے ہو۔احناف کے ہاں دیت ملے گی،شوافع کے ہاں قصاص۔خیال رہے کہ یہ حضورکا فتویٰ تھا فیصلہ نہ تھا کیونکہ مدعیٰ علیہ کی بغیرموجودگی فیصلہ نہیں ہوسکتا،فیصلہ کے لیے فریقین کے بیانات لینا ضروری ہیں اسی لیے حضور انور نے یہاں خلاف ترتیب قسم کا ذکر فرمایا ورنہ قسامت میں صرف ملزمین پرقسم پیش ہوتی ہے۔(مرقات) اس حدیث کی بنا پر امام شافعی فرماتے ہیں کہ اس مقدمہ میں پہلے قسم مدعیان سے لی جائے گی اگر یہ انکار کریں تو مدعیٰ علیہ سے۔ہم کہتے ہیں کہ یہ فتویٰ تھا حکم نہ تھا،نیز یہ حدیث قرآن مجید کے بھی خلاف ہے اور احادیث متواترہ کے بھی لہذا ناقابل عمل ہے،مدعی پر گواہ لازم ہیں قسم نہیں اور گواہ صرف دو چاہئیں ہماری دلیل آگے آرہی ہے۔
۱۱
؎تو بغیر دیکھے ہم کیسے قسم کھالیں کہ فلاں نے قتل کیا ہے۔
۱۲
؎اس طرح کہ یہود خیبر پچاس شخص قسم کھالیں گے کہ نہ ہم قاتل ہیں نہ قاتل کی ہم کو خبر ہے اور دیت سے بچ جائیں گے۔ معلوم ہوا کہ قسامت میں ایک فریق کے انکار قسم پر اس کے خلاف فیصلہ نہ ہوگا بلکہ فریق آخر پر پیش ہوگی بخلاف دیگر مقدمات کے۔
۱۳
؎یعنی یہود کی قسموں کا ہم کو اعتبار نہیں وہ جھوٹی قسمیں کھاسکتے ہیں،اس بنا پر امام مالک فرماتے ہیں کہ مسلمان کے خلاف کافر کی قسم معتبر نہیں کہ قسم گواہی کے قائم مقام ہے جب ان کی ایسی گواہی معتبر نہیں تو قسم کیسے معتبر ہوگی۔
۱۴
؎تاکہ مقتول کا خون ضائع نہ جائے اور فتنہ فرو ہوجائے کیونکہ یہود پر سواء قسم کے اور کوئی شئے واجب نہ ہوسکتی تھی اور مدعیان اس قسم پر راضی نہ تھے اگر حضور صلی اللہ علیہ و سلم دیت نہ عطاء فرمادیتے تو یہ مسلمان نہ معلوم کتنے یہود کو قتل کر ڈالتے،ایسے بے مثال عدل کہیں دیکھنے میں نہ آیا کہ ذمی کفار کو بچانے کے لیے اپنی گرہ سے سو اونٹ دے دیئے۔خیال رہے ایسے موقعہ پر کفار کی قسم معتبر ہے کیونکہ وہ قسم مسلمان کے مقابل نہیں بلکہ اپنے سے رفع مقدمہ کے لیے ہے۔
۱۵
؎مدعیان کی یہ قسم عینی نہ ہوگی کیونکہ دو دیکھنے والوں کی گواہی سے قتل ثابت ہوجاتا ہے پھر گواہ پر قسم نہیں ہوتی بلکہ ظن و گمان کی قسم ہوگی کہ گمان غالب ہے کہ فلاں نے قتل کیا ہے۔
۱۶
؎یہ صورۃً فدیہ تھا مگر حقیقتًا عطیہ شاہانہ تھا جس کا مقصد ہم پہلے بیان کرچکے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3531