- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- نکاح کا بیان
- حدیث نمبر 3324
باب:عدت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3324
نکاح کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ: أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيْلُهُ الشَّعِيرَ فَسَخِطَتْهُ، فَقَالَ: وَاللّٰهِ مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: "لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ"، فَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ، ثُمَّ قَالَ: "تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي، اعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ،فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي" قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي، فَقَالَ: "أَمَّا أَبُو الْجَهْمِ فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ، انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ" فَكَرِهْتُهُ ثُمَّ قَالَ: "انْكِحِي أُسَامَةَ" فَنَكَحْتُهُ، فَجَعَلَ اللّٰهُ فِيهِ خَيْرًا وَاغْتُبِطْتُ، وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهَا: "فَأَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَرَجُلٌ ضَرَّابٌ لِلنِّسَاءِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "لَا نَفَقَةَ لَكِ إِلَّا أَنْ تَكُونِي حَامِلًا".
عن أبي سلمة عن فاطمة بنت قيس: أن أبا عمرو بن حفص طلقها البتة وهو غائب، فأرسل إليها وكيله الشعير فسخطته، فقال: والله ما لك علينا من شيء، فجاءت رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فقال: "ليس لك نفقة"، فأمرها أن تعتد في بيت أم شريك، ثم قال: "تلك امرأة يغشاها أصحابي، اعتدي عند ابن أم مكتوم، فإنه رجل أعمى تضعين ثيابك،فإذا حللت فآذنيني" قالت: فلما حللت ذكرت له أن معاوية بن أبي سفيان وأبا جهم خطباني، فقال: "أما أبو الجهم فلا يضع عصاه عن عاتقه، وأما معاوية فصعلوك لا مال له، انكحي أسامة بن زيد" فكرهته ثم قال: "انكحي أسامة" فنكحته، فجعل الله فيه خيرا واغتبطت، وفي رواية عنها: "فأما أبو جهم فرجل ضراب للنساء". رواه مسلم وفي رواية: أن زوجها طلقها ثلاثا فأتت النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "لا نفقة لك إلا أن تكوني حاملا".
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابو سلمہ سے وہ حضرت فاطمہ بنت قیس ۱؎سے راوی کہ ابو عمرو ابن حفص نے انہیں طلاق بات دے دی جبکہ وہ غائب تھے ۲؎تو ان کے وکیل نے حضرت فاطمہ کو کچھ جو بھیجے وہ ان پر ناراض ہوئیں تو وکیل نے کہا اﷲکی قسم تمہارا ہم پر کچھ حق نہیں ۳؎تو وہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا حضور نے فرمایا تمہارے لیے خرچہ نہیں ۴؎پھر انہیں حکم دیاکہ ام شریک کے گھر عدت گزاریں ۵؎پھر فرمایا کہ وہ ایسی بی بی ہیں جن کے پاس ہمارے صحابہ گھیرے رہتے ہیں ۶؎تم ابن ام مکتوم کے پاس عدت گزارو وہ نابینا آدمی ہیں ۷؎تم اپنے یہ کپڑے اتار دو ۸؎پھر جب تم فارغ ہوجاؤ تو مجھے اطلاع دینا فرماتی ہیں کہ جب میں فارغ ہوگئی تو میں نے حضور سے عرض کیا کہ معاویہ ابن ابوسفیان اور ابوجہم نے پیغام دیا ۹؎تو فرمایا کہ ابوجہم ۱۰؎اپنی لاٹھی اپنے کندھے سے اتارتے ہی نہیں ۱۱؎رہے معاویہ وہ بہت تنگدست ہیں جن کے پاس مال نہیں ۱۲؎تم اسامہ ابن زید سے نکاح کرلو میں نے انہیں ناپسند کیا ۱۳؎حضور نے پھر فرمایا کہ اسامہ سے نکاح کرلو میں نے ان سے نکاح کرلیا تو اﷲنے اس نکاح میں بہت خیر دی کہ مجھ پر رشک کیا گیا ۱۴؎اور ان ہی کی ایک روایت میں یوں ہے کہ ابو جہم بیویوں کو بہت مارنے والے ہیں(مسلم)اور ایک روایت میں ہے کہ ان کے خاوند نے انہیں تین طلاقیں دے دیں ۱۵؎تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں حضور نے فرمایا تمہارے لیے خرچہ نہیں مگر اس صورت میں کہ حاملہ ہوتیں ۱۶؎
شرح حدیث
۱∞؎آپ ابوسلمہ ابن عبدالرحمان ابن عوف مدنی ہیں جلیل القدر تابعی مدینہ پاک کے سات مشہور فقہاء میں سے ہیں اور فاطمہ بنت قیس قرشیہ ہیں۔حضرت ضحاک کی بہن ہیں بہت جمال عقل و کمال والی بی بی ہیں،مہاجرین اولین سے ہیں،پہلے ابو عمرو ابن حفص کے نکاح میں تھیں انہوں نے طلاق دے دی تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کا نکاح اسامہ ابن زید سے کیا رضی اللہ عنہم اجمعین۔
۲؎طلاق بات وہ طلاق ہے جو نکاح کو بالکل ہی ختم کردے جس کے بعد بغیر حلالہ نکاح نہ ہوسکے یعنی تین طلاقیں یا تیسری طلاق،یہاں پہلے معنے مراد ہیں یعنی تین طلاقیں(لمعات اور مرقات)
۳؎یعنی ابو عمرو کے وکیل نے عدت کے خرچہ کے لیے تھوڑے سے جو بھیج دیئے جو حضرت فاطمہ نے ناپسند کیے کہ جو تھے وہ بھی تھوڑے وکیل نے کہا کہ یہ بھی ہماری مہربانی ہے ورنہ تم اس کی بھی حقدار نہیں ہو کیونکہ تم حاملہ نہیں اور عدت کا خرچہ مطلقہ حاملہ کو ہے۔
۴؎یعنی تم کو وہ خرچہ نہیں ملے گا جو تم چاہتی ہو،معمولی خرچہ مل چکا اس حدیث کی بنا پر حضرت ابن عباس و احمد نے فرمایا کہ غیر حاملہ مطلقہ کو نہ عدت میں خرچہ ملے گا نہ گھر، امام مالک و شافعی نے فرمایا کہ گھر تو ملے گا مگر خرچہ نہ ملے گا، ہمارے امام اعظم کا فرمان ہے کہ خرچہ و گھر دونوں ملیں گے،یہ ہی فرمان ہے حضرت عمر کا،جناب عمر نے فرمایا کہ ہم قرآن و حدیث کے مقابل صرف ان فاطمہ کا قول قبول نہیں کرسکتے،قرآن فرماتاہے:"اَسْکِنُوۡھُنَّ مِنْ حَیۡثُ سَکَنۡتُمۡ"اور میں نے سرکار کو فرماتے خود سنا کہ ہر مطلقہ کے لیے گھر بھی ہے خرچہ بھی۔یہ حدیث امام اعظم کے خلاف نہیں کیونکہ یہاں فاطمہ کے مطلوبہ خرچہ کی نفی ہے اور گھر سے منتقل کردینا کسی مجبوری سے تھا جیسا کہ آگے آرہا ہے امام شافعی کی دلیل یہ آیت ہے:"وَ اِنۡ کُنَّ اُولٰتِ حَمْلٍ فَاَنۡفِقُوۡا عَلَیۡہِنَّ"۔جس سے معلوم ہوا کہ صرف حاملہ مطلقہ کو عدت کا خرچہ ملے گا غیر مطلقہ کو نہیں، ہمارے امام صاحب فرماتے ہیں کہ غیر حاملہ کو خرچہ نہ ملنا اس آیت سے ثابت نہیں ہوتا یہاں حاملہ کا ذکر اس لیے ہے کہ کبھی حمل کی مدت دراز ہوجاتی ہے فرمایا گیا خواہ کتنا ہی لمبا زمانہ حمل ہو خرچہ دیئے جاؤ۔(مرقات)
۵؎اس کی وجہ آگے آرہی ہے کہ حضور نے فاطمہ کو ان کے خاوند کے گھر سے کیوں منتقل فرمایا۔
۶؎صحابہ سے مراد ام شریک کے بال بچے عزیز و قرابتدار ہیں۔(مرقات)کیوں کہ ام شریک غنیہ سخیہ مہمان نواز بی بی تھیں۔
۷؎تم کو دیکھ نہیں سکتے اور دوسرے صحابہ ان کے گھر آتے جاتے نہیں لہذا تمہاری وہاں بے پردگی نہ ہوگی۔خیال رہے کہ یہاں حضرت فاطمہ کو یہ اجازت نہ دی گئی کہ وہ ابن ام مکتوم کو دیکھیں،لہذا یہ حدیث نہ تو اس آیت کے خلاف ہے"یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصٰرِھِنَّ"اور نہ اس حدیث ام سلمہ کے خلاف ہےافعمیا و انتماعورت بھی اجنبی مرد کو نہیں دیکھ سکتی۔
۸؎یہ نیا حکم ہے یعنی زمانہ عدت میں زینت کا لباس اتار دو یا گزشتہ کا حال یعنی تم وہاں آزاد ہوگی وہاں کوئی جاتا آتا نہیں تمہیں کوئی دیکھے گا نہیں۔
۹؎یعنی عدت گزر چکنے کے بعد مجھے ان دو شخصوں نے پیغام نکاح دیا ہے حضور کی رائے کیا ہے۔
۱۰؎آپ کا نام عامر ابن حذیفہ ہے عدوی ہیں ثقفی ہیں قرشی ہیں انہی سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز کے لیے سادہ کپڑا خریدا تھا انبجانیہ ابو جہم۔
۱۱؎یعنی ہمیشہ سفر ہی میں رہتے ہیں گھر بہت ہی کم بیٹھتے ہیں یا اپنی بیوی کو مارتے بہت ہیں، دوسرے معنے زیادہ قوی ہیں کیونکہ آگے آرہا ہے۔ضراب للنساءوہ روایت اس کی تفسیر ہے۔ خیال رہے کہ یہ غیبت نہیں بلکہ حضرت فاطمہ کی خیر خواہی ہے پیغام نکاح کے موقعہ پر زوجین میں سے ایک دوسرے کے عیوب کی خبر دینا جائز ہے تاکہ آئندہ خانہ جنگی نہ ہوغیبت حرام میں بہت سی قیود ہیں جو ہم نے اپنے فتاویٰ میں بیان کیں۔
۱۲؎اور ان کے باپ ابوسفیان کنجوس آدمی ہیں جو اپنے بچوں کو خرچ نہیں دیتے تم کو کیا دیں گے۔اﷲ اکبریہ وہ معاویہ ہیں جو بعد میں اتنے غنی ہوگئے کہ ان کا لقب امیر معاویہ ہوا رضی اللہ عنہ،اس سے معلوم ہوا کہ ہمیشہ عورت کو اچھا مشورہ دیا جائے اور جو بیوی کے نفقہ دینے پر قادر نہ ہو اس سے نکاح کرنا بہتر نہیں اگرچہ جائز ہے رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیۡنَ لَا یَجِدُوۡنَ نِکَاحًا حَتّٰۤی یُغْنِیَہُمُ اللہُ مِنۡ فَضْلِہٖ"ایسے غریب آدمی کو روزہ رکھنا بہتر ہے۔وہ جو حدیث پاک میں آتا ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کا نکاح ایسے شخص سے کیا جو صرف کمبل کا مالک تھا اس کے گھرمیں کچھ نہ تھا وہ بیان جواز کے لیے تھا اوروہ عورت ایسی صابرہ شاکرہ تھی کہ مرد کے ساتھ فقر و فاقہ برداشت کرسکتی تھی،نیز وہ صاحب بعد میں بہت جلد مال دار ہوگئے۔
۱۳؎کیونکہ حضرت اسامہ سیاہ فام تھے اور مشہور تھا کہ وہ غلام زادے ہیں اور میں قریشہ عالی نسب تھی مگر حضرت اسامہ حضور کے محبوب اور نہایت متقی عالم تھے۔
۱۴؎یعنی اﷲتعالٰی نے ہم دونوں میاں بیوی میں ایسا اتفاق و سلوک بخشا کہ دوسری عورتوں نے مجھ پر رشک کیا ۔خیال رہے کہ ا یسے امور میں رشک جائز ہے حسد حرام،اس حدیث سے بہت سے مسائل معلوم ہوئے عورت کو پیغام پر پیغام دینا جائز ہے جب کہ پہلے سے بات چیت طے نہ ہوئی ہو غیر کفو سے نکاح درست ہے جب کہ عورت کے ولی راضی ہوں کفایت میں مال کا بھی اعتبار ہے حتی کہ امام شافعی کے ہاں نفقہ سے عاجز شوہر کی بیوی فسخ نکاح کراسکتی ہے۔(مرقات)نکاح میں بزرگوں سے مشورہ کرلینا بہتر ہے مشورہ ہمیشہ اچھا دینا چاہیے پیغام و سلام کی حالت میں فریقین کے واقعی عیوب کا بیان کردینا اچھا ہے تاکہ آئندہ خرابیاں نہ پڑیں بیوی کو مارنا جائز ہے مگر اچھا نہیں۔
۱۵؎یہ عبارت طلاق بتّہ کی شرح ہے کہ اس سے مراد تین طلاقیں تھیں نہ کہ تیسری طلاق۔
۱۶؎یہاں نفقہ سے مراد بہت عرصہ تک نفقہ ہے یعنی حاملہ مطلقہ کو عرصہ دراز تک نفقہ ملتا ہے جب تک کہ وہ بچہ نہ جن دے اور جننے کے بعد بھی بعض صورتوں میں بچہ کی پرورش کانفقہ ملتا رہتا ہے غیر حاملہ کو تھوڑی مدت صرف تین حیض تک نفقہ ملتا ہے لہذا یہ حدیث نہ تو قرآن کریم کے خلاف ہے نہ دوسری احادیث کے،اس کی بحث ابھی ہوچکی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3324