Main Icon

باب:عدت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3336

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ -رضي اللَّه عنه-: أَيُّمَا امْرَأَةٍ طُلِّقَتْ فَحَاضَتْ حَيْضَةً أَوْ حَيْضَتَيْنِ، ثُمَّ رُفِعَتْهَا حَيْضَتُهَا؛ فإنَّهَا تَنْتَظِرُ تِسْعَةَ أَشْهُرٍ، فَإِنْ بَانَ بِهَا حَمْلٌ فَذَلِكَ، وَإِلَّا اعْتَدَّتْ بَعْدَ التِّسْعَةِ الأَشْهُرِ ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ ثم حلَّتْ. رَوَاهُ مَالِكٌ.

وعن سعيد بن المسيب قال: قال عمر بن الخطاب -رضي الله عنه-: أيما امرأة طلقت فحاضت حيضة أو حيضتين، ثم رفعتها حيضتها؛ فإنها تنتظر تسعة أشهر، فإن بان بها حمل فذلك، وإلا اعتدت بعد التسعة الأشهر ثلاثة أشهر ثم حلت. رواه مالك.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعید ابن مسیب سے فرماتے ہیں فرمایا حضرت عمر ابن خطاب نے کہ جو عورت طلاق دی جائے پھر ایک یا دو حیض آجائیں پھر اس کے بعد حیض بند ہوجائیں ۱؎تو وہ نو مہینے انتظار کرے ۲؎پھر اگر اس کو حمل ظاہر ہوجائے ۳؎توفبھاورنہ نو مہینے کے بعد تین ماہ عدت گزارے پھر وہ حلال ہو جائے گی ۴؎(مالک)

شرح حدیث

۱∞؎رفعتھادراصلرفعت عنہاتھا عن پوشیدہ ہوگیا اور ھا ضمیر منصوب ہوگئی جسےمنصوب بنزع الخافضکہتے ہیں۔
۲
؎صورت مسئلہ یہ ہوئی کہ طلاق کی عدت تھی تین حیض،دو حیض آچکے تھے،تیسرا حیض نہ آیا لہذا عدت پوری نہ ہوئی یہ عورت نو ماہ اور انتظار کرے کہ شاید اس کو زنا کا حمل رہ گیا ہو یا خاوند کا ہی حمل ہو اور دوبارہ استحاضہ کا خون آگیا ہو جسے یہ حیض سمجھتی ہو۔
۳
؎اگر حمل ظاہر ہوگیا تو مسئلہ ظاہر ہے کہ حمل جننے سے اس کی عدت پوری ہوگی، خیال رہے کہ اگر عدت طلاق کے دوران میں عورت کو حرام کا حمل رہ جائے تو عدت حمل جننے سے پوری ہوتی ہے۔ اس مسئلہ کا ماخذ یہ حدیث ہے۔
۴
؎صورت مسئلہ یہ ہے کہ عدت طلاق تین حیض ہیں اور حاملہ کے لیے حمل جن دینا،اور چھوٹی نابالغہ بچی اور آئسہ بوڑھی جنہیں حیض نہیں آتا ان کی عدت تین مہینہ،اس عورت کا حال یہ ہوا کہ طلاق کے بعد اسے دو حیض آئے پھر بند ہوگئے،شبہ ہوا کہ شاید یہ حاملہ تھی اس لیے نو ماہ کا انتظار کیا حمل بھی ظاہر نہ ہوا ۔تو معلوم ہوا کہ یہ آئسہ ہوگئی اب فتویٰ دیا گیا کہ آئسہ کی عدت تین ماہ گزارے۔اس مسئلہ میں بڑا اختلاف ہے ایک مذہب وہ بھی ہے جو یہاں مذکور ہوا۔خیال رہے کہ اگر عورت کو کسی بیماری یا بچہ کو دودھ پلانے کی وجہ سے حیض نہ آئے ہوں تو وہ بغیر تین حیض آئے عدت سے باہر نہ ہوگی علاج کرا کر حیض جاری کرائے پھر عدت پوری کرے اور اگر دوران حیض میں عورت آئسہ ہوجائے تو اس کی عدت تین حیض ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3336