Main Icon

باب:عدت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3326

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: إِنَّمَا نُقِلَتْ فَاطِمَةُ لِطُولِ لِسَانِهَا عَلَى أَحْمَائِهَا. رَوَاهُ فِي "شرح السّنة".

وعن سعيد بن المسيب قال: إنما نقلت فاطمة لطول لسانها على أحمائها. رواه في "شرح السنة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعید ابن مسیب سے فرماتے ہیں کہ فاطمہ منتقل کی گئی اپنے دیوروں پر زبان درازی کی وجہ سے ۱؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی فاطمہ اکیلے گھر میں تھیں اور ان کے دیور وغیرہ ان کے پاس تھے مگر تھیں سخت طبیعت،سخت زبان جب انہیں طلاق ہوگئی تو دیوروں نے ان کے پاس رہنا گوارا نہ کیا ان کی سختی کی وجہ سے اب بالکل اکیلی رہ گئیں تب حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں وہاں سے منتقل ہوجانے کی اجازت دی بلکہ حکم فرمادیا لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں کہ وہ سنسان مکان میں تھیں بہرحال جناب فاطمہ کا گھر سے منتقل ہوجانا کسی مجبوری و معذوری کی وجہ سے تھا ورنہ عدت کا خرچہ و مکان خاوند کے ذمہ ہے۔اس جگہ مرقات نے فرمایا کہ حضرت عمر نے فاطمہ کی یہ حدیث رد فرمادی اور فرمایا کہ ہم ایک عورت کے قول سے کتاب ااور سنت رسول انہیں چھوڑ سکتے کیا خبر انہیں یاد رہا یا بھول گئیں عدت طلاق میں گھر اور خرچہ ملنا کتاب ااور سنت رسول اسے ثابت ہے۔حضرت اسامہ نے جناب فاطمہ سے نکاح کرلیا مگر ان کی یہ حدیث انہوں نے بھی قبول نہ کی۔ حضرت ابن مسعود جابر، عائشہ صدیقہ، اسامہ ابن زید حضرت عمرو غیرہم جمہور صحابہ کا یہ ہی مذہب ہے کہ عدت طلاق میں خرچہ و مکان ملے گا ۔حدیث فاطمہ رضی اللہ عنھا مضطرب ہے، بعض روایات میں ہے فاطمہ کے خاوند نے طلاق دی پھر سفر کو گئے ،بعض میں ہے کہ سفر میں جا کر طلاق بھیجی، بعض روایات میں ہے کہ خود فاطمہ نے مسئلہ حضور سے پوچھا،بعض میں ہے کہ خالد ابن ولید نے پوچھا، بعض روایات میں ہے کہ ان کے خاوند ابو عمر ابن حفص نے طلاق دی، بعض میں ہے کہ ابو جعفر ابن مغیرہ نے انہیں طلاق دی اس وجہ سے یہ حدیث ناقا بل عمل ہے اسے حضرت عمر ،زید ابن ثابت، مروان ابن حکیم، سعید ابن مسیب شعبی، حسن بصری، اسود ابن یزید،سفیان ثوری، امام احمد ابن حنبل نے رد کردیا لہذا یہ حدیث ناقابل عمل ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3326