Main Icon

باب:حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3661

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

َنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ أَطَاعَنِيْ فَقَدْ أَطَاعَ اللّٰهَ، وَمَنْ عَصَانِيْ فَقَدْ عَصَى اللّٰهَ، وَمَنْ يُطِعِ الأَمِيْرَ فَقَدْ أَطَاعَنِيْ، وَمَنْ يَعْصِ الأَمِيْرَ فَقَدْ عَصَانِيْ، وَإِنَّمَا الإِمَامُ جُنَّة يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهٖ ويُتَّقَى بِهٖ، فَإِنْ أَمَرَ بِتَقْوَى اللّٰهِ وَعَدَلَ فَإِنَّ لَهٗ بِذٰلِكَ أَجْرًا، وَإِنْ قَالَ بِغَيْرِهٖ فَإِنَّ عَلَيْهِ مِنْهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

ن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "من أطاعني فقد أطاع الله، ومن عصاني فقد عصى الله، ومن يطع الأمير فقد أطاعني، ومن يعص الأمير فقد عصاني، وإنما الإمام جنة يقاتل من ورائه ويتقى به، فإن أمر بتقوى الله وعدل فإن له بذلك أجرا، وإن قال بغيره فإن عليه منه". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے جس نے میری اطاعت کی اس نےکی اطاعت کی ۱؎اور جس نے میری نافرمانی کی اس نےکی نافرمانی کی ۲؎اور جس نے حاکم کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے حاکم کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۳؎امیر ڈھال ہے اس کی پناہ میں جہاد کیا جائے۴؎اور اس کی آڑ لی جائے پھر اگرکے ڈر کا حکم دے اور انصاف کرے تو اس کا اسے ثواب ہے ۵؎اور اگر اس کے علاوہ کہے تو اس کا اس پر وبال ہے ۶؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ کررہی ہے"مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ"۔خیال رہے کہ اطاعت توتعالٰی کی بھی لازم ہے،رسولصلی اللہ علیہ و سلم کی بھی اور سلطان اسلام،ماں باپ، استاذ کی بھی کہ ہر بزرگ کا فرمان لائق عمل ہے مگر عبادت صرفتعالٰی کی ہے اور کسی کی نہیں اور اتباع صرف حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی ہوسکتی ہے،نہ خدا تعالٰی کی نہ کسی اور بزرگ کی۔اتباع کے معنی ہیں کسی کے نقش قدم پر چلنا جو اسے کرتے ہوئے دیکھنا وہ کرنا،قرآن کریم کی اتباع مجازی ہے اسی لیے قرآن مجید میں اطاعت کے ساتھ تین ذاتوں کا ذکر ہے"اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَاَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ اُولِی الۡاَمْرِ مِنۡکُمْ" اورعبادت کے ساتھتعالٰی کا ذکر ہے "اعْبُدُوا اللّٰہَ"اور اتباع کے ساتھ صرف حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکر ہے نہ خدا تعالٰی کا نہ کسی بندے کا"فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ"۔یہ بھی خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت خدا تعالٰی کی اطاعت کی طرح مطلقًا واجب ہے کہ جو بھی حکم دیں بلاوجہ پوچھے بلاوجہ سوچے سمجھے اطاعت کی جائے،دوسرے بندوں کی اطاعت واجب ہے جب کہ جائز کام کا حکم دیں خلاف شرع حکم نہ دیں،حضور کا حکم خود شریعت ہے اگر حضور نماز چھوڑنے یا نکاح نہ کرنے کا حکم دیں تو اس کے لیے وہ ہی حکم شرع ہے،دیکھو ہماری کتاب سلطنت مصطفے اور ہماری تفسیر نعیمی پارہ پنجم جہاں اس کی بہت سی آیات و احادیث پیش کی گئیں۔
۲
؎اس فرمان میں اس آیت کی طرف اشارہ ہے"وَ مَنۡ یَّعْصِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ فَاِنَّ لَہٗ نَارَ جَہَنَّمَ
۳
؎زمانہ جاہلیت میں لوگ نہ امارت سے واقف تھے نہ قضاء سے،ان کے قبیلوں کے رئیس ہوتے تھے،جب اسلام نے یہ محکمے قائم فرمائے تو لوگوں کو تامّل اورتعجب ہوا تب یہ ارشاد فرمایا گیا تاکہ لوگ امارت و قضاء کی اہمیت جانیں۔(مرقات)خیال رہے کہ یہاں امیر کی اطاعت سے مراد جائز احکام میں اطاعت ہے جیساکہ آگے آرہا ہے۔(اشعہ)یہاں امام سے مراد یا تو سلطان اسلام ہے یا اس کا نائب جو جہاد میں سپہ سالار ہو یعنی جہاد کے لیے امیر ضروری ہے اور ملک کے لیے بھی،امیر ڈھال ہے جیسے ڈھال دشمن کے تیروشمشیر سے بچاتی ہے ایسے ہی سلطان رعایا کو داخلی اور خارجی دشمنوں سے محفوظ رکھتا ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ سلطان کو ڈھال کی طرح جنگ میں سب سے آگے رکھو تاکہ پہلا تیر اسی کو لگے۔(لمعات)قتالسے مراد خوارج، باغیوں کفاراور سارے فسادیوں سے جنگ ہے۔
۵
؎عظیم الشان ثواب جو ہمارے بیان بلکہ اندازے سے باہر ہے۔
۶
؎یعنی اگر بادشاہ اسلام خلاف شرع چیزوں کا حکم دے تو اس پر گناہ اور وبال بھی اتنا ہے جو ہمارے بیان و اندازے سے باہر،تمام ملک کا بوجھ اس کی گردن پر ہے،یہاںعلیٰنقصان کے لیے ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3661