Main Icon

باب:حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3669

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ فَمَاتَ مَاتَ مَيْتَةً جَاهِلِيَّةً، وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ يَغْضَبُ لِعَصَبِيَّةٍ أَوْ يَدْعُوْ لِعَصَبِيَّةٍ أَوْ يَنْصُرُ عَصَبِيَّةً فَقُتِلَ فَقَتْلُهٗ جَاهِلِيَّةٌ، وَمَنْ خَرَجَ عَلٰى أُمَّتِيْ بِسَيْفِهٖ يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا وَلَا يَتَحَاشَى مِنْ مُؤْمِنِهَا وَلَا يَفِيْ لِذِيْ عَهْدٍ عَهْدَهٗ فَلَيْسَ مِنِّيْ وَلَسْتُ مِنْهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي هريرة قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "من خرج من الطاعة وفارق الجماعة فمات مات ميتة جاهلية، ومن قاتل تحت راية عمية يغضب لعصبية أو يدعو لعصبية أو ينصر عصبية فقتل فقتله جاهلية، ومن خرج على أمتي بسيفه يضرب برها وفاجرها ولا يتحاشى من مؤمنها ولا يفي لذي عهد عهده فليس مني ولست منه". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو فرمانبرداری سے نکلا اور جماعت سے جدا ہوا ۱؎پھر مر گیا تو وہ جہالت کی موت مرا ۲؎اور جس نے اندھا دھند جھنڈے کے نیچے جنگ کی۳؎کہ غصہ کرتا ہے تعصب کی بنا پر یا غصہ کرتا ہے تعصب کی طرف یا مدد دیتا ہے عصبیت کی بنا پر ۴؎پھر وہ مارا گیا تو اس کی موت جاہلیت کی ہے ۵؎اور جو میری امت پرتلوار لے کر مارتا ہو نیک کار کو بھی بدکار کو بھی ۶؎اور نہ بچے امت کے مومنوں سے اور نہ پورا کرے عہد والے کے لیے اس کا عہدوپیمان ۷؎پس وہ نہ مجھ سے ہے نہ میں اس سے۸؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اطاعت سے مراد سلطان اسلام کی فرمانبرداری ہے اور جماعت سے مراد جماعت مسلمین ہے،جماعت سے جدا ہونے کے معنے ہیں کہ جس کی حکومت پر مسلمان متفق ہوچکے ہیں اسے حاکم نہ مانے اپنے کو جماعت کے فیصلہ سے الگ رکھے،اس جملہ کے اور معنی بھی ہوسکتے ہیں جوکتاب الاعتصاممیں مذکور ہوچکے۔
۲
؎اس کے معنی ابھی عرض کیے کہ اس سے مراد کفر کی موت نہیں ہے بلکہ کفار کی سی موت ہے،کفر کی موت اور کفار کی سی موت میں بڑا فرق ہے۔
۳
؎عمیہبروزنغنیہبھی آتا ہے غین کے پیش نون کے سکون سے اورعمّیۃبھی آتا ہے عین کے کسرہ میم کے شد اور کسرہ سے ی کے شد سے،یہ لفظعمیسے بنا بمعنی اندھا پن اس سے مراد وہ بلوہ یا جنگ ہے جس کی وجہ معلوم نہ ہو،کوئی شخص صرف اپنی قوم اپنے دھڑے کی حمایت میں مسلمانوں کے دوسرے دھڑے سے لڑے جیسا کہ آج کل عام دیہاتی پارٹیوں میں دیکھا جاتا ہے۔
۴
؎عصبیۃمفعول لہٗ ہےیغضباوریدعوکا یعنی حق و باطل کی تمیز کیے بغیر خود بھی اس اندھا دھند لڑائی میں شریک ہوجاتا ہے اور اپنے دھڑے کے دوسرے آدمیوں کو بھی بلاکر جنگ میں شریک کرتا ہے،عصیبت کے معنی ہیں ظلم پر اپنی قوم کی مددکرناعصبہسے بنا بمعنی وارث یا قوم۔
۵
؎یعنی ایسی موت مسلمانوں کی سی نہیں کفار کی سی ہے کافر قوم،ملک،مال وغیرہ کے لیے لڑتے ہیں مگر مؤمن کی لڑائی صرفکے لیے چاہیے یہ لڑائی بھی عبادت ہے۔
جنگ شاہاں فتنہ و غارتگری است جنگ مؤمن سنت پیغمبری است
قومیت کی جنگ فساد ہے للہیت کی جنگ جہاد،اسلام نے ہم کو جینا مرنا سب کچھ سکھایا۔
۶
؎اس جملہ کی دو شرطیں ہیں:ایک یہ کہ امتی سے مراد امت اجابۃ یعنی مسلمان ہیں اور نیک سے مراد صالح آدمی ہیں اور فاجر سے مراد گنہگار مسلمان ہیں یعنی ہر نیک و بدمسلمان جو قتل کرے۔دوسرے یہ کہ امتی سے مراد امت دعوت ہے یعنی ہر آدمی کافر ہو یا مؤمن اوربرّھاسے مراد مسلمان ہوں اورفاجرھاسے مراد کافر ہو،مرقات نے یہ دونوں شرحیں کیں۔
۷
؎اگر گزشتہ جملہ کی پہلی تفسیر کی جائے تو یہ علیٰحدہ مستقل حکم ہے اور اگر دوسری شرح کی جائے تو یہ جملہ اس کی شرح ہے،عہد والے سے مراد یا ذمی کفار ہیں یا مستامن کفار۔
۸
؎یعنی وہ میری امت سے نہیں یا میرے طریقہ سے نہیں اور میں اس کے معاون و مددگاروں سےنہیں یا وہ مجھ سے قریب نہیں میں اس سے قریب نہیں،یہ کلمہ انتہائی غضب کا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3669