Main Icon

باب:حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3714

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ قَالَ: "مَا مِنْ رَجُلٍ يَلِيْ أمرَ عَشَرَةٍ فَمَا فَوْقَ ذٰلِكَ إِلَّا أَتَاهُ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ مَغْلُوْلًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَدُهٗ إِلَى عُنُقِهٖ فَكَّهُ بِرُّهٗ، أَوْ أَوْبَقَهُ إِثْمُهٗ، أَوَّلُهَا مَلَامَةٌ، وَأَوْسَطُهَا نَدَامَةٌ، وَآخِرُهَا خِزْيٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".

وعن أبي أمامة عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: "ما من رجل يلي أمر عشرة فما فوق ذلك إلا أتاه الله عز وجل مغلولا يوم القيامة يده إلى عنقه فكه بره، أو أوبقه إثمه، أولها ملامة، وأوسطها ندامة، وآخرها خزي يوم القيامة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوامامہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی آپ نے فرمایا نہیں ہے کوئی شخص جو دس یا اس سے زیادہ شخصوں کے کام کا والی بنے مگرعزوجل اسے قیامت کے دن اس طرح لائے گا کہ اس کا ہاتھ گردن سے بندھا ہو گا ۱؎پھر یا اس کی نیکی کھول دے یا اس کا گناہ اسے ہلاک کردے اس کی ابتداء ملامت ہے اس کا بیچ شرمندگی ہے اور اس کی انتہا قیامت کے دن رسوائی ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حاکم عادل ہو یا ظالم آئے گا اس ہی حالت میں،یہ ان حکام کے لیے ہے جو نفسانی طور پر حکومت کے خواہش مند ہوں کہ یہ طلب جرم ہے،جس کی سزا یہ ہے پھر عادل چھوٹ جائیں گے اور ظالم جوتے کھائیں گے لہذا حدیث بالکل واضح ہے،اسے حضرات خلفاء راشدین یا حضرت داؤدو سلیمان علیہما السلام سے کوئی تعلق نہیں،دیکھو یہاںیلیارشاد ہواولینہ فرمایا گیا۔
۲
؎یعنی اس قسم کی حکومت کی ابتداء مخلوق کی ملامت ہے اور درمیان میں خود حاکم کا نفس لوّامہ اسے ملامت کرتا ہے اور اس کا نتیجہ قیامت کی رسوائی،بعض ناتجربہ کار لوگ حکام کی ظاہری شان و شوکت وتنخواہ دیکھ کر بکوشش حاکم بن جاتے ہیں،لوگ بلکہ خود ان کے قرابتدار انہیں ملامت کرتے ہیں دنیا گالیاں دیتی ہے،یہ تو دنیا کے انعام ہیں،آخرت میں جو ہوگا وہ ناقابل برداشت ہے، یزید حجاج، مروان اس حدیث کی زندہ جاوید شرح ہیں۔شعر
نہ ماند ستم گار و بد روز گار بماند برو لعنت پائیدار

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3714