Main Icon

باب:حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3716

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "تَعَوَّذُوْا بِاللّٰهِ مِنْ رَأْسِ السَّبْعِيْنَ وَإِمَارَةِ الصِّبْيَانِ"رَوَى الأَحَادِيْثَ السِّتَّةَ أَحْمَدُ، وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ حَدِيْثَ مُعَاوِيَةَ فِيْ "دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ".

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "تعوذوا بالله من رأس السبعين وإمارة الصبيان"روى الأحاديث الستة أحمد، وروى البيهقي حديث معاوية في "دلائل النبوة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے ستر کی ابتداء ۱؎اور لونڈوں کی سلطنت سےکی پناہ مانگو ۲؎ان چھ حدیثوں کو احمد نے روایت کیا اور حدیث امیر معاویہ کو بیہقی نے دلائل النبوۃ میں نقل فرمایا ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ ستر کا عدد وقت ہجرت سے ہے اور ہوسکتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے وقت سے ہو یا اس فرمان عالی کے وقت سے،پہلے معنے زیادہ ظاہر ہیں اور ستر سے مراد ستر کے عشرہ کی ابتداء ہے یعنی ۶۰ھ؁ ∞ سے یہ زمانہ شروع ہوجاتا ہے۔چنانچہ ا میرمعاویہ کی وفات ۶۰ھ؁ ∞ میں ہے،اسی سال یزید تخت نشین ہوا۔ (ازمرقات)حضرت ابوہریرہ دعا مانگا کرتے تھے کہ الٰہی میں ۶۰ھ؁ ∞ سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔چنانچہ آپ کی وفات ۵۹ھ؁ ∞ میں ہوئی، ۶۰ھ؁ ∞ بڑا ہی خطرناک ثابت ہوا کہ ستر کے عشرہ کی ابتداء یہاں سے ہوئی۔(اشعہ)
۲
؎ان لونڈوں سے مراد قریش کے نو عمر بادشاہ ہیں جیسے یزید ابن معاویہ اور حکم کی اولاد۔ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے خواب میں حکم کے لونڈوں کو اپنے منبر کے پاس بندروں کی طرح کھیلتے دیکھا تو آپ بہت مغموم ہوئے،بعض مفسرین نے اس آیت کریمہ "وَمَا جَعَلْنَا الرُّءۡیَا الَّتِیۡۤ اَرَیۡنٰكَ اِلَّا فِتْنَۃً لِّلنَّاسِ"کی تفسیر اسی خواب سے کی ہے۔(مرقات)
۳
؎ابن عساکر نے بسند ضعیف حضرت عبدابن عباس سے روایت کی کہ ایک بار میں اور حضرت ابوبکر و عمر اور عثمان و معاویہ حضور کی خدمت میں تھے کہ حضرت علی آگئے رضی اللہ عنہم،تو حضور نے جناب معاویہ سے فرمایا کہ کیا تم علی سے محبت کرتے ہو، عرض کیا ہاں فرمایا تمہاری ان کی جنگ ہوگی،عرض کیا کہ جنگ کے بعد کیا ہوگا،فرمایا رب کی طرف سے معافی ورضا تو آپ نے فرمایارضینا بقضاء اﷲ،اس کے متعلق یہ آیت کریمہ نازل ہوئی"وَلَوْ شَآءَ اللّٰہُ مَا اقْتَتَلُوۡا"الایہ۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3716