Main Icon

باب:حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3702

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيْ كَرِبَ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ عَلٰى مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: "أَفْلَحْتَ يَا قُدَيْمُ إِنْ مُتَّ وَلَمْ تَكُنْ أَمِيْرًا، وَلَا كَاتِبًا، وَلَا عَرِيْفًا". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن المقدام بن معدي كرب: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ضرب على منكبيه، ثم قال: "أفلحت يا قديم إن مت ولم تكن أميرا، ولا كاتبا، ولا عريفا". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مقدام ابن معدیکرب سے ۱؎کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے کندھے پر ہاتھ مارا پھر فرمایا اے قدیم ۲ تم کامیاب ہوجاؤ گے اگر ایسے مرو کہ نہ حاکم ہو نہ منشی ۳؎اور نہ سردار ۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کے حالات بیان ہوچکے کہ آپ صحابی ہیں،۹۱ سال عمر پائی، ۸۷ھ؁ ∞ میں وفات پائی۔
۲
؎کندھے پر ہاتھ رکھنا،قدیمتصغیر فرماکر خطاب کرنا کرم و محبت کے لیے ہے۔
۳
؎یعنی سلطان یا حاکم کے منشی۔
۴
؎عریفکے معنے یا تو وہ ہی ہیں جو عرض کیے گئے نمبردار چودھری جو بادشاہ اور رعایا کے درمیان واسطہ ہو یا اس کے معنے مشہور آدمی جسے سب پہنچانیں۔فقہاء فرماتے ہیں خمول رحمت ہے شمول آفت ہے،مولانا برکات فرماتے تھے کہ شریف وہ ہے جو نہ ہمیں پہچانے نہ ہم اسے پہچانیں حالانکہ آپ والی مکہ تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3702