Main Icon

باب:حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3717

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ يَحْيَى ابْنِ هَاشِمٍ عَنْ يُوْنُسَ اِبْنِ أَبِيْ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "كَمَا تَكُوْنُوْنَ كَذٰلِكَ يُؤَمَّرُ عَلَيْكُمْ".

وعن يحيى ابن هاشم عن يونس ابن أبي إسحاق عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "كما تكونون كذلك يؤمر عليكم".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت یحیی ابن ہاشم سے وہ یونس ابن ابی اسحق سے وہ اپنے والد سے راوی ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جیسے تم ہو گے ویسے ہی حکام تم پر حاکم بنائے جائیں گے ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یحیی اور یونس کے حالات معلوم نہ ہوسکے،ابواسحق کا نام عمرو ابن عبدسبعی ہمدانی کوفی ہے،تابعین میں سے ہیں،حضرت علی،ابن عباس،براء ابن عازب اور زید ابن ارقم صحابہ سے ملاقات کی لہذا آپ تابعی ہیں، خلافت عثمانی میں پیدا ہوئے، ۱۲۰ھ؁ ∞ میں وفات پائی،آپ کے بیٹے یونس،حفیدہ سفیان ہیں پچانوے یا چھیانوے سال کی عمر ہوئی۔(مرقات و اشعہ)
۲
؎یعنی جیسے تمہارے اعمال ہوں گے ویسے تم پر بادشاہ و حکام مقرر ہوں گے،تمکے مطیع ہوتم پر حکام رحمدل منصف ہوں گے،تم رب کی اطاعت سے منہ موڑو گے تو تم پر ظالم و جابر بادشاہ و حکام مسلط ہوں گے، شیخ سعدی نے کیا خوب فرمایا۔شعر
چوخواہد کہ ویراں کند عالمے نہد ملک درپنجہ ظالمے
خیال رہے کہ اس میں لوگو ں کی عام حالت مراد ہے کہ اگر عوام عمومًا بدعمل ہوجائیں تو حکام ظالم ہوں گے اگرچہ خاص خاص لوگ صالحین بھی ہوں لہذا اس حدیث کی بنا پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اگر امام حسین نیک ہوتے تو یزید پلید کیوں مسلط ہوتا،حدیث کی فہم صحیح ضروری ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3717