Main Icon

باب:حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3686

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "مَا مِنْ وَالٍ يَلِيْ رَعِيَّةً مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ، فَيَمُوْتُ وَهُوَ غَاشٌّ لَهُمْ إِلَّا حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن معقل بن يسار قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "ما من وال يلي رعية من المسلمين، فيموت وهو غاش لهم إلا حرم الله عليه الجنة". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معقل ابن یسار سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ نہیں ہے کوئی والی جو مسلمان رعیت کا والی بنے ۲؎پھر ان پر خیانت کرتا ہوا مر جائے ۳؎مگراس پر جنت حرام فرمادے گا ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎معقلمیم کے فتحہ اور عین کے کسرہ سے،آپ شجرہ والے صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے حدیبیہ میں بیعت رضوان کی تھی،بصرہ میں قیام رہا،خواجہ حسن بصری آپ کے شاگرد ہیں۔(اشعہ)امیر معاویہ کے زمانہ میں وفات پائی۔
۲
؎یہاں والی سے عام والی مراد ہے سلطان ہویا حاکم،استاذ ہو یا ماں باپ،مسلمان رعایا کا ذکر اتفاقی ہے ورنہ اپنے ماتحت کفار رعایا اور کفار نوکر چاکروں کا بھی حساب ہوگا کہ ان کے شرعی حقوق ادا کیے یا نہیں۔
۳
؎غاشبنا ہےغشسے بمعنی ملاوٹ و کھوٹ،یہاںغاشسے مراد ہے ان کے حقوق نہ ادا کرنے والا اور یا ان پر حق سے زیادہ بوجھ ڈالنے والا۔(مرقات)اس میں بھاری ٹیکس وغیرہ سب داخل ہیں۔
۴
؎لہذا وہ نجات پانے والے مؤمنوں کے ساتھ جنت میں نہ جائے گا اور اگر ان جرموں کو حلال جانتا تھا تو کبھی جنت میں نہ جائے گا یا ایسے ظالم کے متعلق اندیشہ ہے کہ اس کا خاتمہ خراب ہو اور وہ دائمی دوزخی بن جائے،یہاں موت کا ذکر فرماکر یہ بتایا کہ مرتے دم تک توبہ کا اسے موقعہ ہے مگر جیسی خیانت ویسی توبہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3686