Main Icon

باب:حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3701

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ سَكَنَ الْبَادِيَةَ جَفَا، وَمَنِ اتَّبَعَ الصَّيْدَ غَفَلَ، وَمَنْ أَتَى السُّلْطَانَ افْتُتِنَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائيُّ، وَفِيْ رِوَايَةِ أَبِيْ دَاوُدَ: "مَنْ لَزِمَ السُّلْطَانَ افْتُتِنَ، وَمَا ازْدَادَ عَبْدٌ مِنَ السُّلْطَانِ دُنُوًّا إِلَّا ازْدَادَ مِنَ اللّٰهِ بُعْدًا".

وعن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "من سكن البادية جفا، ومن اتبع الصيد غفل، ومن أتى السلطان افتتن". رواه أحمد والترمذي والنسائي، وفي رواية أبي داود: "من لزم السلطان افتتن، وما ازداد عبد من السلطان دنوا إلا ازداد من الله بعدا".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں جو بن باسی ہوا وہ سخت دل ہوگیا ۱؎جو شکار کے پیچھے رہا وہ غافل ہوگیا ۲؎جو بادشاہ کے پاس پہنچا وہ فتنہ میں پڑا۳؎(احمد،ترمذی، نسائی)اور ابوداؤد کی روایت میں یوں ہے جو بادشاہ سے چمٹ گیا۴؎وہ فتنہ میں پڑگیا اور نہیں بڑھاتا کوئی بندہ بادشاہ سے قرب مگر بڑھا لیتا ہےسے دوری ۵؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی دیہات کے باشندے اکثر سخت دل ہوتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"اَلۡاَعْرَابُ اَشَدُّ کُفْرًا وَّ نِفَاقًا وَّ اَجْدَرُ اَلَّا یَعْلَمُوۡا"۔ کیونکہ انہیں علم کی روشنی علماء کی صحبت نہیں نصیب ہوتی لہذا خود عالم دین جو دیہات میں رہیں اور وہ دیہات والے جو علماء سے تعلق رکھیں اور شہر میں آجاتے رہیں وہ اس حکم سے خارج ہیں۔
۲
؎یعنی جو شکار کا شغل اپنا وطیرہ بنالے کہ محض شوقیہ شکار کھیلتا رہے وہکے ذکر،نمازوجماعت جمعہ،رقت قلب سے محروم رہتا ہے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی شکار نہ کیا۔(اشعہ)بعض صحابہ نے شکار کیا ہے مگر شکارکرنا اور ہے اور شکار کا مشغلہ وہ بھی محض شوقیہ کچھ اور شکار کا ذکر تو قرآن کریم میں ہے یہاں مشغلہ شوقیہ کا ذکر ہے لہذا یہ حدیث حکم قرآن کے خلاف نہیں۔
۳
؎یعنی جو عزت و دولت کمانے کے لیے ظالم بادشاہ کا درباری اور حاضر باش بنا وہ اپنا دین یا دنیا تباہ کرلے گا کیونکہ اگر وہ اس کے ظلم کی حمایت کرے گا تو اپنا دین برباد کرلے گا اور اگر اس کی مخالفت کرے گا تو اپنی دنیا برباد کرلے گا لہذا جو کوئی عادل بادشاہ کا مصاحب بنے اس کے عدل کی حمایت کرنے تک میں دین کا رواج دینے کو اور اسے اچھے مشورے دے تو وہ اعلیٰ درجے کا مجاہد ہے،یوں ہی ظالم بادشاہ کی اصلاح کے لیے اس کے ساتھ رہے تو وہ غازی ہے مگر ایسا بہت مشکل ہے لہذا حضرت علی کو خلفاءراشدین کا مصاحب بننا اور حضرت امام ابو یوسف کا سلطان ہارون رشید کا قاضی القضاۃ بننا گناہ نہ تھا ثواب تھا،امام ابویوسف کی یہ قضاءحنفی مذہب کی اشاعت کا ذریعہ بنی۔
۴
؎اس طرح کہ ہر وقت اس کے ساتھ رہا وہ امید نان اور خوف جان میں مبتلا۔ہوگیا حضرت عطار نے کیا خوب فرمایا۔عقرب سلطاں آتش سوزاں بود
۵
؎اس فرمان عالی کا مقصد بھی وہ ہی ہے جو ابھی عرض کیا گیا کہ ظالم بادشاہ سے قرب رب تعالٰی سے دوری کا ذریعہ ہے اور دیلمی نے مسند الفردوس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل فرمایامن ازداد علما ولم یزدد فی الدنیا زاھدالم یزدد من اﷲ الا بعداجو علم بڑھائے دنیا سے بے رغبت نہ ہو وہسے دوری میں ہی اضافہ کرے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3701