Main Icon

باب:حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3694

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِ الْحَارِثِ الأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "آمُرُكُمْ بِخَمْسٍ:بِالْجَمَاعَةِ، وَالسَّمْعِ، وَالطَّاعَةِ، وَالْهِجْرَةِ، وَالْجِهَادِ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ، وَإِنَّهٗ مَنْ خَرَجَ مِنَ الْجَمَاعَةِ قِيْدَ شِبْرٍ، فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهٖ إِلَّا أَنْ يُرَاجِعَ، وَمَنْ دَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ مِنْ جُثٰى جَهَنَّمَ وَإِنْ صَامَ وَصَلّٰى وَزَعَمَ أَنَّهٗ مُسْلِمٌ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ.

عن الحارث الأشعري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "آمركم بخمس:بالجماعة، والسمع، والطاعة، والهجرة، والجهاد في سبيل الله، وإنه من خرج من الجماعة قيد شبر، فقد خلع ربقة الإسلام من عنقه إلا أن يراجع، ومن دعا بدعوى الجاهلية فهو من جثى جهنم وإن صام وصلى وزعم أنه مسلم". رواه أحمد والترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حارث اشعری ۱؎سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ میں تم کو پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں جماعت کا۲؎اور سننے و فرمانبرداری کرنے اورہجرت اور خدا کی راہ میں جہاد کرنے کا ۳؎جو جماعت سے ایک بالشت برابر نکل گیا اس نے اسلام کا پھندا اپنی گردن سے نکال دیا ۴؎مگر یہ کہ لوٹ آئے ۵؎اور جو جاہلیت کے بلاوے سے بلائے ۶؎تو وہ دوزخ کی جماعتوں میں سے ہے ۷؎اگرچہ روزہ رکھے نماز پڑھے اور گمان کرے کہ وہ مسلمان ہے ۸؎(احمد،ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ حارث ابن حارث اشعری ہیں،شام میں قیام رہا اس لیے آپ کو شامی بھی کہا جاتا ہے،آپ صحابی ہیں اور آپ سے صرف یہ ہی ایک حدیث منقول ہے،ابو سلام حبشی کے استاذ ہیں۔
۲
؎کہ عقائدواعمال میں جماعت مسلمین کے ساتھ رہو جس چیز پر امت مسلمہ کا اجماع ہوجائے اس کا اتباع کرو اور سلف صالحین کی پیروی کرو۔(مرقات واشعہ)
۳
؎علماءواولیاء کی حق باتیں سنو ان کی اطاعت کرو اور حاکم اسلام کی اطاعت ہر جائز حکم میں کرو اور مکہ معظمہ سے مدینہ پاک کی طرف ہجرت کرو یا جہاں اسلامی آزادی نہ ہو کفار سے جہاد کبھی اور کسی کو نصیب ہوتا ہے مگر نفس سے جہاد ہر وقت ہر مسلمان کو کرنا پڑتا ہے۔(مرقات)رب تعالٰی فرماتاہے:"قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ"اپنے قریبی کافروں سے جہاد کرو سب سے قریبی کافر اپنا نفس ہے۔
۴
؎قِیدقاف کے کسرہ ی کے جزم سے بمعنی قدروبرابر،شبرشین کے کسرہ ب کے سکون سے بمعنی بالشت،ربقہر کے فتحہ سے رسّی کا وہ پھندا جو بکری کے گلے میں ہوتا ہے۔(اشعہ و مرقات)یعنی جو عقائدواعمال سے تھوڑا سابھی جماعت مسلمین کے خلاف ہوجائے تو اس نے اسلام کے ذمہ اور رب کا عہد توڑ دیا۔
۵
؎یعنی اپنی بدعقیدگی سے توبہ کرے تو دروازۂ توبہ کھلا ہوا ہے۔
۶
؎جیسے اسلام سے پہلے کفار اپنی مدد کے لیے اپنے دشمن کے مقابل اپنے کنبہ یا قوم کو پکارتے تھے اور وہ قوم والے اس کی امداد کو بغیر سوچے سمجھے دوڑ پڑتے تھے خواہ وہ ظالم ہوتا یا مظلوم یعنی قومیت کی جنگ،آج کل ہم لوگوں میں صوبائی قومی ملکی تعصب بہت ہے،یہاں اس کی برائی بیان ہورہی ہے۔
۷
؎جثیجمع ہےجثوۃکی جیم کے فتحہ یا کسرہ یا پیش سے بمعني جماعت و گروہ،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْهَا جِثِیًّا(۷۲)جثوۃلغت میں ریت کے ڈھیر کو کہتے ہیں جہاں ذروں کا اجتماع ہو،پھر بڑی جماعت کوجثوہکہنے لگے کہ اس میں لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے۔
۸
؎معلوم ہوا کہ پختہ مسلمان ہونے کے لیے عبادات کے ساتھ درستی معاملات بھی ضروری ہے انسان کی جانچ معاملات سے ہوتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3694