Main Icon

باب:حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3688

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "إِنَّ شَرَّ الرِّعَاءَ الْحُطَمَةُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن عائذ بن عمرو قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "إن شر الرعاء الحطمة". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائذ ابن عمرو سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ بدترین والی ظالم لوگ ہیں ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آپ مدنی ہیں،بیعۃ الرضوان والے صحابہ میں سے ہیں،اواخر عمر میں بصرہ میں قیام فرما رہے،وہاں ہی وفات پائی،خواجہ حسن بصری وغیرہم نے آپ سے احادیث روایت کیں۔
۲
؎رعاءرے کے پیش اور عین کے مد سے ہےراعیکی جمع ہے جیسے تاجر کی جمع تجار اور نحوی کی جمع نحاۃ اور رامی کی جمع رمات،حطمہ ح کے پیش اور ط کے فتحہ سے حاطم کی جمع مشتق ہےحطمم سے بمعنی توڑنا،کچل دینا یعنی بدترین سلطان و حکام وہ ہیں جو رعایا کی کمر توڑ دیں،ان پر ٹیکسوں گرانیوں سخت احکام سے رعایا کو پریشان کردیں جیساکہ آج کل عمومًا دیکھا جارہا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3688