Main Icon

باب:حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3704

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَى اللّٰهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَقْرَبَهُمْ مِنْهُ مَجْلِسًا: إِمَامٌ عَادِلٌ، وَإِنَّ أَبْغَضَ النَّاسِ إِلَى اللّٰهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَشَدَّهُمْ عَذَابًا، وَفِيْ رِوَايَةٍ: وَأَبْعَدَهُمْ مِنْهُ مَجْلِسًا: إِمَامٌ جَائِرٌ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ.

وعن أبي سعيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن أحب الناس إلى الله يوم القيامة وأقربهم منه مجلسا: إمام عادل، وإن أبغض الناس إلى الله يوم القيامة وأشدهم عذابا، وفي رواية: وأبعدهم منه مجلسا: إمام جائر". رواه الترمذي، وقال هذا حديث حسن غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ قیامت کے دن لوگوں میںکو زیادہ پیارا اورسے زیادہ قریب جگہ والا انصاف والا بادشاہ ہے ۱؎اور قیامت کے دن تمام لوگوں میں اللہ کو زیادہ ناپسند اور بہت سخت عذاب والا اور ایک روایت میں ہے کہ رب سے بہت دور مجلس والا ظالم بادشاہ ہے ۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن ہے غریب ہے۳؎

شرح حدیث

۱∞؎قریب جگہ سے مراد عزت اور مرتبہ ہے یعنی دوسرے بادشاہوں کے مقابلہ میں عادل بادشاہتعالٰی سے زیادہ درجہ ومرتبہ والا ہوگا یا عادل بادشاہ انصاف وعدالت کے لحاظ سے زیادہ قرب والا ہوگا لہذا اس فرمان عالی کا مطلب یہ نہیں کہ عادل بادشاہ حضرت صدیق اکبروفاروق اعظم یا دیگر صحابہ کرام سے زیادہ درجہ والا ہوجائے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ آج کل کے بادشاہوں کو عادل کہنا کفر ہے،مرقات کا یہ فتویٰ بالکل درست ہے کہ موجودہ بادشاہوں کا حال سب کو معلوم ہے اور ظلم کو عدل کہنا تمام فقہاء کے نزدیک کفر ہے۔
۲
؎اس کا مطلب بھی وہ ہی ہے جو ابھی عرض کیا گیا ظالم بادشاہ ظلم کے اعتبار سے غیر ظالم سے کہیں بدتر ہوگا لہذا اس سے یہ لازم نہیں کہ مسلمان ظالم بادشاہ ابوجہل وغیرہ سے بدتر ہو۔خیال رہے کہ ظالم حاکمتعالٰی اور رسولصلی اللہ علیہ و سلم اور رعایا کے حقوق مارتا ہے اس پر حقوق کا زیادہ بوجھ ہے۔
۳
؎یہ حدیث امام احمد نے بھی اپنی موطا میں روایت فرمائی،امام احمد ابن حنبل کے بیٹے نے اپنی کتابزوائد الدھرمیں امام حسن سے مرسلًا نقل فرمایا کہتعالٰی کا پیارا بندہ وہ ہے جو بندوں کا خیرخواہ ہو۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3704