Main Icon

باب:حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3695

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ زِيَادِ ا بْنِ كُسَيْبٍ الْعَدَوِيِّ قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِيْ بَكْرَةَ تَحْتَ مِنْبَرِ ابْنِ عَامِرٍ وَهُوَ يَخْطُبُ وَعَلَيْهِ ثِيَابٌ رِقَاقٌ، فَقَالَ أَبُوْ بِلَالٍ: اُنْظُرُوْا إِلٰى أَمِيْرِنَا يَلْبَسُ ثِيَابَ الْفُسَّاقِ، فَقَالَ أَبُوْ بَكْرَةَ: اُسْكُتْ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "مَنْ أَهَانَ سُلْطَانَ اللّٰهِ فِي الأَرْضِ أَهَانَهُ اللّٰهُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ.

وعن زياد ا بن كسيب العدوي قال: كنت مع أبي بكرة تحت منبر ابن عامر وهو يخطب وعليه ثياب رقاق، فقال أبو بلال: انظروا إلى أميرنا يلبس ثياب الفساق، فقال أبو بكرة: اسكت، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "من أهان سلطان الله في الأرض أهانه الله". رواه الترمذي، وقال هذا حديث حسن غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت زیاد ابن کسیب عدوی سے ۱؎فرماتے ہیں میں ابو بکرہ کے ساتھ ابن عامر کے منبر کے نیچے تھا ۲؎وہ خطبہ پڑھ رہا تھا اور اس پر باریک کپڑے تھے تو ابوبلال نے کہا ۳؎کہ امیر کو دیکھو فاسقوں کا لباس پہنتا ہے ۴؎تو ابوبکرہ بولے چپ رہو میں نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو زمین میںکے بادشاہ کی توہین کرےاسے ذلیل کرے ۵؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ تابعی ہیں،مصری ہیں،ثقہ ہیں،کسیبکاف کے ضمہ سے ہے مصغر۔(اکمال)
۲
؎عبدابن عامر ابن کر یز اُموی حضرت عثمان ابن عفان کے ماموں ہیں،حضور کی وفات کے وقت ان کی عمر تیرہ سال تھی، حضرت عثمان نے آپ کو بصرہ و خراسان کا حاکم مقرر کیا تھا۔
۳
؎غالبًا آپ ابوبردہ ابن سعد ابن ابوموسیٰ اشعری ہیں،آپ کے بیٹے کا نام بلال ہے،آپ بصرہ کے حاکم تھے۔
۴
؎یا تو کپڑے ریشمی تھے یا تھے تو سوتی مگر تھے باریک جیسے کہ عیش پسند مال داروں کا لباس ہے،دوسرا احتمال زیادہ قوی ہے۔
۵
؎سبحان اﷲ!کیسی پاکیزہ تعلیم ہے کہ سلطان اسلام کے وقار سے اسلام کا وقار،مسلمانوں کا رعب،ملک کا انتظام ہے،جب اس کا وقار ہی ختم ہوگیا تو یہ سب کچھ ختم ہوگیا۔باریک کپڑے پہننا حرام نہیں مگر وقارِ سلطان بگاڑنا حرام ہے۔
حکایت: حضرت امام جعفر صادق ایک بار نہایت اعلیٰ جبہ پہنے تھے سفیان ثوری نے عرض کیا اے ابن رسول
یہ لباس آپ کے لیے موزوں نہیں تو آپ نے سفیان کا ہاتھ اپنی آستین میں ڈالا دیکھا کہ نیچے پشمینہ کا جبہ ہے فرمایا یہ اوپر کا لباس مخلوق کے لیے ہے اور یہ اندرونی لباس خالق کے لیے۔(مرقات)الناس باللباسآج کل اعلیٰ لباس ذریعہ عزت ہے۔
حکایت:فرقد سنجی جو ٹاٹ کے کپڑے پہنتا تھا حضرت امام حسن کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نہایت اعلیٰ جوڑا پہنے تھے،وہ بنظر اعتراض آپ کے کپڑے چھونے لگا تو آپ نے فرمایا کیا دیکھتا ہے مجھ پر جنتیوں کا لباس ہے اور تجھ پر دوزخیوں کا لباس ہے،پھر فرمایا اکثر ٹاٹ پہننے والے دوزخی ہوں گے جن کے جسم پر ٹاٹ ہے دل میں تکبر ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3695