Main Icon

باب:حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3697

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "مَا مِنْ أَمِيْرِ عَشَرَةٍ إِلَّا يُؤْتٰى بِهٖ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُوْلًا حتّٰى يَفُكَّ عَنْهُ الْعَدْلُ، أَوْ يُوْبِقَهُ الْجَوْرُ". رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "ما من أمير عشرة إلا يؤتى به يوم القيامة مغلولا حتى يفك عنه العدل، أو يوبقه الجور". رواه الدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے نہیں ہے کوئی کسی کنبہ کا سردار مگر وہ قیامت کے دن طوق میں لایا جائے گا حتی کہ یا تو اسے انصاف چھوڑ دے یا اسے ظلم ہلاک کردے ۱؎(دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں سردار سے مراد وہ سردار ہیں جو خواہش نفس کے لیے بخوشی اور بکوشش سردار بنے یعنی ایسے سردار اگرچہ دس آدمیوں کے افسر ہوں مگر قیامت میں طوق بگردن آئیں گے پھر آگے حساب کے بعد یہ طوق اتر جائے یا لازم ہوجائے،عادل تھے رہائی پائیں گے، ظالم تھے تو پکڑ میں آجائیں گے،لہذا یہ حدیث حضرت سلیمان علیہ السلام یا خلفائے راشدین یا یوسف علیہ السلام کے لیے نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3697