Main Icon

باب:حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3696

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سِمْعَانَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوْقٍ فِيْ مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ". رَوَاهُ فِيْ "شَرْحِ السُّنَّةِ".

وعن النواس بن سمعان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق". رواه في "شرح السنة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے نواس ابن سمعان سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ خالق کی نافرمانی میں كسي مخلوق کی اطاعت نہیں ۲؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎نواسنون کے فتحہ واؤ کے شد سے،سمعانسین کے فتحہ میم کے کسرہ سے،آپ صحابی ہیں شام میں قیام رہا۔
۲
؎یعنی کوئی بندہ گناہ کا حکم دے یا نیکی سے منع کرے تو اس کی بات نہ مانو اگرچہ وہ باپ،استاذ،مرشد،حاکم یا بادشاہ ہو،لیکن اگر حضور صلی اللہ علیہ و سلم کسی کو ایسی چیز کا حکم دیں جو بظاہر خلاف قرآن و حدیث معلوم ہوتی ہوتو اس کا کرنا واجب ہے کہ اس حکم کے صادر ہونے سے اس شخص کے نام وہ گناہ رہا ہی نہیں نیکی بن گیا،اس کی صد ہا مثالیں موجود ہیں۔اگر کسی کو حضور بلائیں اور وہ نماز پڑھ رہا ہے تو اس پر نماز چھوڑنا فورًا حاضرہوجانا واجب،رب تعالٰی فرماتاہے:"اسْتَجِیۡبُوۡا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوۡلِ اِذَا دَعَاکُمۡ" اس کی نفیس تحقیق ہماری کتاب سلطنت مصطفی میں دیکھئے۔حضور کے حکم سے بائیکاٹ کے زمانہ میں حضرت کعب پر ان کی بیوی حرام رہیں،حضرت عبدابن تملیک کو ابو رافع کے قتل کے لیے جھوٹ بولنے کی اجازت دے دی وغیرہ وغیرہ۔یہاں مرقات نے عجیب بات فرمائی کہ "اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَاَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ اُولِی الۡاَمْرِ مِنۡکُمْ"میں رسول کے لیےاطیعواعلیٰحدہ ارشاد ہوا اوراولی الامرکے لیے علیٰحدہ استعمال نہ ہوا کیونکہ اطاعت رسول مستقلًا واجب ہے مگر اطاعتاولی الامراس شرط سے واجب ہے کہ قرآن وسنت کے خلاف حکم نہ دیں،نیز مرقات میں ہے کہ حضر ت علی نے فرمایا مجھ سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اے علی تمہاری مثال عیسیٰ علیہ السلام کی سی ہے کہ یہود نے انہیں بہتان لگائے عیسائیوں نے انہیں حد سے بڑھایا، بعض تمہیں حد سے بڑھادیں گے بعض بہتان لگائیں گے،فرمایا مجھے حد سے بڑھانے والے محب بھی ہلاک ہوں گے،بہتان لگانے والے دشمن بھی ہلاک ہوں گے میں نبی اور صاحب وحی نہیں ہوں اگر میں تم کو اچھی بات کا حکم دوں تو میری اطاعت کرو اگر بری بات کا حکم دوں میں یا کوئی اور تو اطاعت جائز نہیں۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3696