Main Icon

باب:حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3674

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "مَنْ خَلَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ لَقِيَ اللّٰهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا حُجَّةَ لَهٗ،وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِيْ عُنُقِهٖ بَيْعَةٌ مَاتَ مَيْتَةً جَاهِلِيَّةً". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن عبد الله بن عمر قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "من خلع يدا من طاعة لقي الله يوم القيامة ولا حجة له،ومن مات وليس في عنقه بيعة مات ميتة جاهلية". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدابن عمر سے فرماتے ہیں میں نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو فرماں برداری سے ہاتھ نکالے وہ قیامت کے دنسے اس حال میں ملے گا اس کے پاس کوئی دلیل نہ ہوگی اور جو اس طرح مرا کہ اس کے گلے میں بیعت نہیں وہ جاہلیت کی موت مرا ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث میں دلیل سے مراد بندے کے ایمان و تقویٰ کی دلیل و ثبوت ہے اور بیعت سے اگر خلیفہ و سلطان اسلام کی بیعت مراد ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ جب خلیفہ رسول یا سلطان اسلام موجود ہو پھر یہ اس کی بیعت خلافت نہ کرے تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا اور اگر بیعت سے عام بیعت مراد ہے خواہ بیعت خلافت ہو یا بیعت ارادہ تو حدیث مطلق ہے کہ جو بغیر مرشد پکڑے مرجائے اس کی موت کفار کی سی ہے۔صوفیاء فرماتے ہیں جس کا کوئی پیر نہیں اس کا پیر شیطان ہے،یہ حدیث ان کی دلیل ہے۔خیال رہے کہ بیعت بہت قسم کی ہے:بیعت اسلام،بیعت خلافت ،بیعت اطاعت اور بیعت ارادت۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3674