Main Icon

باب:حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3718

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ السُّلْطَانَ ظِلُّ اللّٰهِ فِي الأَرْضِ،يَأْوِيْ إِلَيْهِ كُلُّ مَظْلُوْمٍ مِنْ عِبَادِهٖ، فَإِذَا عَدَلَ، كَانَ لَهُ الأَجْرُ وَعَلَى الرَّعِيَّةِ الشُّكْرُ، وَإِذَا جَارَ كَانَ عَلَيْهِ الإصْرُ، وَعَلَى الرَّعِيَّةِ الصَّبْرُ".

وعن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "إن السلطان ظل الله في الأرض،يأوي إليه كل مظلوم من عباده، فإذا عدل، كان له الأجر وعلى الرعية الشكر، وإذا جار كان عليه الإصر، وعلى الرعية الصبر".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنھما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ بادشاہ زمین میںکا سایہ ہے ۱؎جس کی طرفکے بندوں میں سے ہر مظلوم پناہ لیتا ہے تو اگر انصاف کرے تو اس کے لیے ثواب ہے اور رعایا پر شکر واجب ہے ۲؎اور جب ظلم کرے تو اس پر بوجھ ہےاور رعایا پر صبر واجب ہے۳؎

شرح حدیث

۱∞؎سایہ سے مراد رحم وکرم ہے کہ جیسے درخت کے سایہ میں دھوپ سے پناہ لی جاتی ہے ایسے ہی لوگوں کی شر سے سلطان کی پناہ لی جاتی ہے،دنیا میں سلطان پناہ ہے آخرت میں عرش اعظم کا سایہ پناہ ہوگا۔
۲
؎کیونکہ رحم دل منصف حاکمتعالٰی کی بڑی نعمت ہے اور ظاہر ہے کہ شکریہ بقدر نعمت چاہیے شکر سے نعمت بڑھتی ہے۔
۳
؎یعنی ظالم سلطان سایہ شیطان ہے مگر بارادہ رحمان ایسے ظالم بادشاہ کی بغاوت کرنے کی بجائے اپنے اعمال کی اصلاح کرو کیونکہ بغاوت سے بڑا فساد ہوتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3718